وفاقی آئینی عدالت نے مبینہ کم سن مسیحی لڑکی ماریہ کی شادی سے متعلق نظرثانی کیس میں شہر یار اور ماریہ کو دوبارہ نوٹس جاری کر دیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ نظرثانی کیس میں فیصلے کی غلطی کی نشاندہی کرنا ضروری ہے۔
قائم مقام چیف جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے کہ یہ نظرثانی کا کیس ہے، وکلا نشاندہی کریں کہ فیصلے میں کیا غلطی ہوئی ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ فیصلے میں جن عدالتی نظائر پر انحصار کیا گیا، وہ تبدیل ہو چکی ہیں۔ وکیل ثاقب جیلانی نے مؤقف اختیار کیا کہ شرعی عدالت نے نئی نظیر دی ہے جس کی تمام عدالتیں پابند ہیں۔
قائم مقام چیف جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ لڑکا اور لڑکی عدالت میں پیش ہوئے تھے اور ماریہ شہباز نے بیان دیا تھا کہ وہ کم سن نہیں بلکہ بالغ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لڑکی کا پیدائشی سرٹیفکیٹ 10 سال بعد بنوایا گیا، جبکہ نادرا سرٹیفکیٹ بھی 8 سال بعد حاصل کیا گیا۔ ان کے مطابق، لڑکی کی عمر کا معاملہ متعلقہ فورم پر نہیں اٹھایا گیا تھا۔
مزید پڑھیں:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر نااہلی کی تلوار، وفاقی آئینی عدالت میں کیس سماعت کے لیے مقرر
وکیل ثاقب جیلانی نے کہا کہ تمام عدالتی فورمز کی ذمہ داری تھی کہ لڑکی کی فلاح و بہبود کا تحفظ کرتے۔ اس پر قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی آئینی عدالت کے سامنے معاملہ لڑکی کی عمر کا نہیں بلکہ حبسِ بے جا سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا تھا۔ لڑکی کی عمر کے تعین کے لیے فریقین کو فیملی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔
عدالتی عملے کے مطابق، شہر یار کو پہلے جاری کیے گئے نوٹس کی تعمیل نہیں ہوئی۔ عدالت نے دونوں فریقین کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔










