سپریم کورٹ نے ریپ کیس میں صرف ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر سزا دینے سے متعلق اہم قانونی سوالات اٹھاتے ہوئے فریقین کے وکلا سے مزید معاونت طلب کرلی اور سماعت ملتوی کردی۔
جسٹس ملک شہزاد احمد اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل بینچ نے گونگی بہری 25 سالہ معذور لڑکی سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت کی، جس میں ہائیکورٹ نے ڈی این اے رپورٹ پر انحصار کرتے ہوئے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: چترال، ذہنی و جسمانی معذور خاتون سے زیادتی، جب پورا گاؤں شامل تفتیش اور نوجوانوں کا ڈی این اے کیا گیا؟
دورانِ سماعت جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں متاثرہ لڑکی کو ذہنی معذور بھی لکھا ہے۔ ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متاثرہ لڑکی نے عدالت میں خود کوئی بیان نہیں دیا، ٹرائل کورٹ نے اس کی والدہ کے بیان پر انحصار کیا، جبکہ سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ بھی موجود ہے کہ صرف ڈی این اے میچ ہونے کی بنیاد پر سزا نہیں سنائی جا سکتی۔
اس پر جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ جس فیصلے کا حوالہ دیا جا رہا ہے، اس کے حقائق مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ لڑکی قوتِ سماعت اور قوتِ گویائی سے محروم ہے اور اس مقدمے میں اس پر ماضی میں بھی ایسے الزامات لگانے کی ہسٹری موجود تھی۔
ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ لڑکی نے حمل کے پانچویں ماہ اپنی والدہ کو پیٹ میں درد کی شکایت کی، جس کے بعد طبی معائنے کے دوران اس کے حاملہ ہونے کا علم ہوا۔ دوسری جانب متاثرہ لڑکی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے ملزم سے میچ کر گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم متاثرہ لڑکی کا ہمسایہ اور رشتے میں ماموں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معذور خواتین اور لڑکیاں آن لائن ہراسانی کا زیادہ نشانہ
جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق گونگے بہرے افراد کا بیان سمجھنے کے لیے ماہر کو بلایا جاتا ہے۔ جسٹس ملک شہزاد احمد نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں متاثرہ لڑکی کی والدہ نے اس کی جانب سے بیان دیا، جبکہ ایسے افراد کی بات سمجھنے کے لیے ماہر کی مدد ضروری ہوتی ہے۔
جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ متاثرہ لڑکی معذور ہے اور اسے معلوم ہی نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ لوگوں میں خوفِ خدا ختم ہو گیا ہے۔ جسٹس ملک شہزاد احمد نے بھی ریمارکس دیے کہ اللہ ہمیں معاف کرے۔
متاثرہ لڑکی کی والدہ کے حوالے سے جسٹس ملک شہزاد احمد نے بتایا کہ ان کے مطابق لڑکی نے 2 گواہوں کی موجودگی میں ملزم کی نشان دہی کی تھی۔ جسٹس ملک شہزاد احمد نے ریمارکس دیے کہ اگر لڑکی ملزم کی نشان دہی کر سکتی ہے تو بادی النظر میں وہ ذہنی طور پر معذور نہیں۔ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ قانونِ شہادت کے مطابق ایسے مقدمات میں متاثرہ لڑکی کا بیان اہمیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور : پولیس اسٹیشن میں خاتون سے مبینہ زیادتی، تھانے کا پورا عملہ معطل
عدالت نے وکلا سے 3 اہم نکات پر مزید معاونت طلب کی: کیا صرف ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر سزا دی جا سکتی ہے؟ متاثرہ لڑکی صرف گونگی بہری ہے یا ذہنی معذوری کا بھی شکار ہے؟ اور ٹرائل کے دوران متاثرہ لڑکی کی بات سمجھنے کے لیے کسی ماہر کو کیوں نہیں بلایا گیا؟
سپریم کورٹ نے ان سوالات پر فریقین کے وکلا سے مزید قانونی معاونت طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔











