پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اپنی مقبولیت کے دعوؤں کے باوجود خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف اور بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر احتجاجی تحریک چلانے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
سیاسی امور کے ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کی کمزوری اور پارلیمانی سیاست پر بڑھتا ہوا انحصار ہے، جس کے نتیجے میں پارٹی کے تنظیمی عہدیداروں کے مقابلے میں ارکان اسمبلی اور حکومتی عہدیداروں کا سیاسی اثر و رسوخ زیادہ ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی مدت کا انحصار صوبے کی صورتحال پر ہوگا، مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اپنی سیاسی مقبولیت کو مضبوط تنظیمی ڈھانچے میں ڈھالنے کے بجائے پارلیمانی سیاست کو زیادہ ترجیح دیتی رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں پارٹی کارکنوں اور تنظیمی عہدیداروں کے درمیان رابطے کمزور ہوئے، جبکہ احتجاجی سرگرمیوں کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنے کی ذمہ داری بھی زیادہ تر ارکان اسمبلی کے سپرد کی جاتی رہی۔
ماہرین کے مطابق اگر گورنر راج کے نفاذ کے وقت تحریک انصاف کا تنظیمی ڈھانچہ مضبوط اور فعال ہوتا تو خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بیک وقت بڑے احتجاجی مظاہروں کا انعقاد ممکن تھا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کارکنوں کا تنظیمی عہدیداروں کے بجائے ارکان اسمبلی، وزرا اور وزرائے اعلیٰ سے وابستہ ہونا تحریک انصاف کی احتجاجی صلاحیت کو متاثر کررہا ہے۔
سیاسی امور کے ماہرین کے مطابق عمران خان کی رہائی کے لیے حالیہ احتجاجی سرگرمیوں میں بھی تحریک انصاف کے تنظیمی عہدیداروں کا کردار نسبتاً محدود نظر آتا ہے، جبکہ کارکنوں کو متحرک کرنے اور احتجاج میں ان کی شرکت یقینی بنانے کی ذمہ داری زیادہ تر ارکان اسمبلی کو سونپی جاتی ہے۔ اس طرز سیاست کے نتیجے میں پارٹی کے تنظیمی عہدوں کے مقابلے میں منتخب نمائندوں کی سیاسی حیثیت اور اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات کا باقاعدہ تسلسل نہ ہونا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ پارٹی میں طویل عرصے سے تنظیمی عہدوں کے لیے انتخابی عمل کے بجائے نامزدگیوں کا طریقہ رائج رہا ہے۔
’موجودہ چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا اور خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر سمیت متعدد عہدیداروں کی نامزدگیوں کے باعث تنظیمی قیادت کے انتخابی مینڈیٹ اور کارکنوں کے ساتھ اس کے براہ راست رابطے کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔‘
ماہرین کے مطابق جب کارکنوں کو تنظیمی قیادت کے انتخاب میں براہ راست شرکت کا موقع نہیں ملتا تو تنظیمی عہدوں کی اہمیت کم ہونے کے ساتھ ساتھ عہدیداروں کی کارکنوں کو متحرک کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے اندر بعض مواقع پر چیئرمین، سیکریٹری جنرل اور دیگر تنظیمی عہدیداروں کے مقابلے میں وزیراعلیٰ، وزرا اور ارکان اسمبلی زیادہ اثر و رسوخ رکھتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم یہ مسئلہ صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں ہے۔ سیاسی امور کے ماہرین کے مطابق جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی تنظیمی سیاست کے مقابلے میں پارلیمانی سیاست کو زیادہ ترجیح دینے کا رجحان پایا جاتا ہے۔
’اس کے نتیجے میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں اکثر منتخب نمائندوں اور حکومتی عہدوں کے گرد مرکوز ہو جاتی ہیں، جبکہ تنظیمی کارکنوں کا کردار نسبتاً محدود ہو سکتا ہے۔‘
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت کی مقبولیت کو مستقل سیاسی قوت میں ڈھالنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا تنظیمی ڈھانچہ فعال ہو، عہدیداروں کا کارکنوں سے مسلسل رابطہ برقرار رہے اور احتجاجی و سیاسی مہمات کا انحصار صرف ارکان اسمبلی کی موجودگی اور وسائل پر نہ ہو۔
’تحریک انصاف کو درپیش موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا پارٹی کو اپنی انتخابی مقبولیت ایک مؤثر تنظیمی قوت میں تبدیل کرنے کے لیے اندرونی سطح پر تنظیمی سیاست کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے؟‘










