وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی تباہی کو محض قدرتی آفت قرار نہیں دیا جاسکتا، یہ ہماری پالیسیوں اور انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔ اس تباہی کا سب سے زیادہ بوجھ غریب طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے، اس لیے ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات میں ان کی مشکلات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
پاکستان نیشنل کلین ایئر کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ معاشرے میں ہر شخص کے حالات یکساں نہیں۔ کسی کے گھر میں آگ بجھانے کے جدید آلات موجود ہوسکتے ہیں، لیکن صبح اسکول جانے والی بچی کے پاس ایسی سہولتیں نہیں ہوتیں۔ اسی طرح سڑک کنارے ٹھیلا لگانے والے محنت کش اور کسان کی زندگی بھی ان حالات سے متاثر ہوتی ہے۔ ہمیں ماحولیاتی آلودگی کے اسباب پر بات کرتے ہوئے ان لوگوں کی مشکلات کو بھی سمجھنا چاہیے جو اپنی روزی کمانے کے لیے سخت حالات میں کام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فصلوں کی باقیات جلانے سے دھواں پیدا ہوتا ہے اور فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے کسان کے حالات اور مجبوریوں کو بھی دیکھنا ہوگا۔ کسان کی زندگی اور اس کے معاشی مسائل کو نظرانداز کرکے مسئلے کا پائیدار حل تلاش نہیں کیا جاسکتا۔
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کا اسلام آباد میں پاکستان نیشنل کلین ایئر کا نفرنس سے خطاب https://t.co/mqmW0w0Z5F
— PMLN (@pmln_org) October 28, 2026
مصدق ملک نے کہا کہ فیکٹریوں سے نکلنے والی آلودگی اور ماحول کو نقصان پہنچانے والی انسانی سرگرمیاں ایسی تباہی کا سبب بن رہی ہیں جس کا خمیازہ بالخصوص غریب لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ محض ایسا قدرتی حادثہ نہیں جس پر انسان کا کوئی اختیار نہ ہو، بلکہ اس کے اسباب میں ہماری پالیسیوں اور طرزِ عمل کا بھی کردار ہے۔ اس صورت حال کو بہتر بنانا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جب موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہمارے اختیار میں ہے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم اس سے پہلے مشکل چیلنجز کا مقابلہ نہیں کرچکے؟ انہوں نے کہا کہ جب سے وزیراعظم نے انہیں موسمیاتی تبدیلی کی ذمہ داری سونپی ہے، انہوں نے اس مسئلے پر عملی کوششیں شروع کردی ہیں اور گلگت بلتستان سمیت مختلف علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:موسمیاتی تغیر سے چترال کی خواتین کس طرح متاثر ہورہی ہیں؟
مصدق ملک نے پاکستان میں ڈینگی پر قابو پانے کی کوششوں اور پہاڑی علاقوں میں شاہراہوں کی تعمیر کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے ماضی میں بھی مشکل مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت دکھائی ہے۔ ان کے بقول پنجاب میں شہباز شریف کی قیادت میں ڈینگی پر قابو پانے کے لیے کیے گئے اقدامات بھی ایک مثال ہیں کہ مؤثر حکمت عملی اور عملی کوششوں سے بڑے مسائل کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے بھی اجتماعی کوششوں اور مؤثر پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ اس مسئلے کا حل ممکن ہے، بشرطیکہ ہم اس کی وجوہات کو سمجھیں اور ایسے اقدامات کریں جن سے ماحول کے تحفظ کے ساتھ عام شہریوں، کسانوں اور محنت کشوں کے معاشی مسائل کو بھی مدنظر رکھا جائے۔











