اگست 2019 میں خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں، زمین کے حقوق پر پابندیوں اور سیاسی جبر میں اضافے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ استنبول میں قائم عالمی وکلا تنظیم نے اقوام متحدہ سے تحقیقات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جواب دہی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
استنبول میں قائم عالمی وکلا تنظیم (وولاس) کی رپورٹ میں بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورت حال کو طویل فوجی قبضے سے آگے بڑھتا ہوا ایک ’ساختی آبادکار نوآبادیاتی منصوبہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ ’لانگسٹ سیج: سیٹلر کولونیلزم اینڈ اسٹرکچرل وائلنس اِن انڈین آکوپائیڈ جموں کشمیر‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں اگست 2019 سے 2026 تک کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ قانونی، انتظامی اور آبادیاتی تبدیلیاں کشمیریوں کی سیاسی شناخت، زمین کے حقوق اور مستقبل کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا وسیع کریک ڈاؤن، 3000 سے زائد کشمیری گرفتار، متعدد مکانات مسمار
رپورٹ میں کشمیر میڈیا سروس اور جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنوری 1989 سے اگست 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں 96 ہزار 502 افراد جان سے گئے، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد شہری گرفتار ہوئے، ایک لاکھ 10 ہزار سے زیادہ مکانات اور دیگر عمارتیں تباہ یا متاثر ہوئیں، جب کہ تقریباً 23 ہزار خواتین بیوہ ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق 8 ہزار سے زائد جبری گمشدگیوں اور جنسی تشدد کے 11 ہزار سے زیادہ واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے۔ اس میں 2011 کی ایک تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کے مطابق شمالی کشمیر کے 38 مقامات سے ملنے والی 2 ہزار 730 لاشوں میں سے 2 ہزار 156 کی شناخت نہیں ہوسکی تھی۔
رپورٹ میں 2019 کے بعد ڈومیسائل قوانین میں تبدیلیوں، غیر مقامی افراد کے لیے رہائشی حقوق اور زمین کے حصول کی سہولت، 2023 میں بے دخلیوں کی مہم اور مقامات و اداروں کے نام تبدیل کرنے کو آبادیاتی اور ثقافتی تبدیلیوں کی کوششوں سے جوڑا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اردو کی واحد سرکاری زبان کی حیثیت ختم کرنے، مذہبی سرگرمیوں پر پابندیوں اور سری نگر کی جامع مسجد اور عیدگاہ میں عید کی نماز کی اجازت بار بار نہ دینے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں حریت رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریوں، صحافیوں اور وکلا کے پاسپورٹ روکے جانے، نگرانی کے نظام میں توسیع اور 2026 تک 4 ہزار 249 کتابوں کو گردش سے ہٹانے کے دعوے بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے آزاد کشمیر کے عوام پرسکون، مقبوضہ کشمیر خوف کی فضا میں، محبوبہ مفتی کا اعتراف
قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ تشدد، من مانی حراست، مکانات کی مسماری اور آبادی کی منتقلی جیسے اقدامات جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔ تنظیم نے اقوام متحدہ کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن کے قیام، مبینہ خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کے خلاف بین الاقوامی قانونی کارروائی، ہدفی پابندیوں اور عالمی عدالت انصاف سے 2019 میں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کی قانونی حیثیت پر رائے لینے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں بھارت اور اسرائیل کے دفاعی و سیکیورٹی تعاون کا بھی جائزہ لیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ عالمی برادری کو محض تشویش کے اظہار کے بجائے آزادانہ تحقیقات، انسانی حقوق کے تحفظ اور جواب دہی کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔











