مقبوضہ کشمیر میں خوف، جبکہ آزاد کشمیر کے عوام پرسکون زندگی گزار رہے ہیں، سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مودی سرکار کو آئینہ دکھا دیا۔
سرینگر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے اعتراف کیا کہ آزاد کشمیر کے عوام پرسکون اور آزاد ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں.
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی بڑی دینی درسگاہ ’سراجُ العلوم‘ غیرقانونی قرار، انتہا پسندی کے الزامات
ان کے مطابق، اس کے برعکس مقبوضہ جموں و کشمیر میں خوف، دباؤ اور بے یقینی کی فضا قائم ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ نریندر مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں متعدد ادارے قائم کیے، لیکن اس کے باوجود وہاں کے عوام کے دلوں میں سکون موجود نہیں۔
ان کے بقول، بھارتی حکومت نے وادی کے عوام کو خوف اور محصوریت کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔
’۔۔۔آزاد کشمیر میں اگرچہ بڑے تعلیمی ادارے کم ہیں، مگر وہاں کے لوگ سکون اور اطمینان کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو مسلح افواج کے خصوصی اختیارات کے قانون اور دباؤ کا سامنا نہیں، اسی لیے وہاں کے لوگ زیادہ مطمئن اور خوش دکھائی دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: گھر گھر تلاشی کے دوران کشیدگی، بھارتی اہلکار نشانہ بن گئے
تجزیہ کاروں کے مطابق، زمینی حقائق اور تقابلی جائزوں میں طویل عرصے سے یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ جنگ بندی لائن کے دونوں اطراف ماحول میں واضح فرق موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلسل فوجی موجودگی اور سخت قوانین نے خوف کی فضا پیدا کر رکھی ہے، جبکہ آزاد کشمیر میں عوام آزاد اور پرسکون ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں سینکڑوں کم عمر لڑکیاں لاپتہ، لوک سبھا میں تشویشناک انکشاف
سیاسی مبصرین کے مطابق، محبوبہ مفتی کا یہ بیان بھارتی ذرائع ابلاغ کے ان دعوؤں کے برعکس ہے، جن میں مقبوضہ جموں و کشمیر کو مکمل طور پر پرامن اور ترقی یافتہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ صرف ترقیاتی منصوبے یا بنیادی ڈھانچے کی تعمیر عوامی اطمینان کی ضمانت نہیں بن سکتے بلکہ سیاسی آزادی، بنیادی حقوق اور خوف سے پاک ماحول بھی عوامی سکون کے لیے ناگزیر ہیں۔












