ترجمان انجمن تاجران وسیم خورشید نے ایکشن کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ راولاکوٹ کے کاروباری مراکز فوری طور پر کھولنے کا اعلان کیا جائے، کیونکہ طویل بندش کے باعث تاجروں اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
وسیم خورشید کے مطابق تحریک کے آغاز میں بھمبر سے تاؤ بٹ تک پورا آزاد کشمیر متحد تھا اور راولاکوٹ میں مکمل ہڑتال اور پہیہ جام کی قیادت کی گئی تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ تحریک اپنے اصل مقصد سے ہٹ گئی، جس سے عوام کا اعتماد کم ہوا اور ہڑتال کی متعدد کالز بھی کامیاب نہ ہوسکیں۔
یہ بھی پڑھیں:راولاکوٹ میں ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران قانون شکنی کے واقعات، مسلح مورچہ بندی اور تشدد کی شکایات
انہوں نے کہا کہ 2 ماہ کے راشن کا ذخیرہ کرنے کی کال بھی غیر مناسب تھی، کیونکہ اس میں عام شہریوں اور غریب مزدوروں کی مشکلات کو نظرانداز کیا گیا۔ عوام نے اس کال کو قبول نہیں کیا۔
ترجمان انجمن تاجران کے مطابق آزاد کشمیر کے دیگر علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال ہوچکے ہیں، لیکن راولاکوٹ گزشتہ 5 ماہ سے بندش کا شکار ہے۔ طویل ہڑتال کے باعث ہزاروں دکانداروں اور روزانہ کی بنیاد پر روزی کمانے والے مزدوروں کو بے روزگاری اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
وسیم خورشید نے ایکشن کمیٹی پر زور دیا کہ زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے راولاکوٹ کے کاروباری مراکز کی بحالی کا فوری اعلان کیا جائے تاکہ تاجروں اور محنت کشوں کو مزید معاشی نقصان سے بچایا جاسکے۔










