بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے جنگلات سے نکل کر 100 کلومیٹر سے زائد کا فاصلہ طے کرنے والی شیرنی کو ریاست آسام میں بحفاظت پکڑ لیا گیا۔
مزید پڑھیں:عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کو پی آئی سی اسپتال سے کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا
بھارتی میڈیا کے مطابق 3 سالہ شیرنی کو 2 اکتوبر 2026 کو مغربی بنگال کے بکسہ ٹائیگر ریزرو میں جنگل میں آزاد کیا گیا تھا، جہاں اسے ریاست میں شیروں کی آبادی بحال کرنے کے منصوبے کے تحت بہار کے والمیکی ٹائیگر ریزرو سے منتقل کیا گیا تھا۔
شیرنی 23 اکتوبر کو دریائے سنکوش عبور کرکے آسام کے ریمونا نیشنل پارک میں داخل ہوگئی اور بعدازاں کوکرا جھار ضلع کے انسانی آبادی والے علاقوں کے قریب پہنچ گئی، جس کے بعد مقامی آبادی اور جنگلی جانور کی حفاظت کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے۔
Doars Rani, Bengal’s first relocated tigress who went missing, captured in Assam
Read: https://t.co/iavZtmINC1 https://t.co/zkFrhNTYVn
— The Indian Express (@IndianExpress) November 3, 2026
شیرنی کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے مغربی بنگال اور آسام کے محکمہ جنگلات نے مشترکہ کارروائی شروع کی، جس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور مقامی آبادی نے بھی معاونت کی۔ شیرنی کو تلاش کرنے اور محفوظ طریقے سے پکڑنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق شیرنی کو بے ہوش کرنے کے بعد پنجرے میں منتقل کیا گیا۔ مغربی بنگال کے وزیر جنگلات منوج کمار اوراؤں نے کارروائی میں تعاون پر آسام کے محکمہ جنگلات اور دیگر متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ شیرنی کو واپس بکسہ ٹائیگر ریزرو منتقل کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:عمران خان اور پارٹی کے مفاد کی سب سے زیادہ مخالفت پی ٹی آئی کے اندر سے ہوتی ہے، شیر افضل مروت
شیرنی کی اس طویل نقل و حرکت نے جنگلی حیات کے قدرتی مسکن اور محفوظ جنگلاتی راہداریوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے، جہاں جانور ریاستی سرحدوں سے بے نیاز ہوکر اپنی فطری جبلت کے تحت نقل و حرکت کرتے ہیں۔











