ایپل نے بالآخر ’برا آئیڈیا’ اپنا لیا، کمپنی کا پہلا ٹچ اسکرین لیپ ٹاپ لانچنگ کے لیے تیار

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایپل اپنے پہلے ٹچ اسکرین میک بکس متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے جس کے ساتھ کمپنی اپنی دیرینہ مزاحمت کو ختم کرتے ہوئے چھٹیوں کے اہم خریداری سیزن سے قبل مصنوعات کی لانچ مہم کو عروج پر لے جائے گی۔ کمپنی اب تک ٹچ اسکرین لیپ ٹاپ کو ایک انتہائی ناموزوں آئیڈیا تصور کرتی آئی تھی تاہم اب ’جیسا دیس ویسا بھیس‘ کے مصداق یہ اب خود بھی ایسی میک بک لانچ کرنے جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایپل کے نئے فولڈ ایبل آئی فون کی اسکرین ٹوٹنے لگی، کمپنی کا متبادل فون دینے کا اعلان

ایپل ستمبر میں اپنی سلیکون ویلی ہیڈکوارٹر میں فولڈنگ آئی فون ڈو لانچ کرنے اور رواں ماہ کے شروع میں نیویارک میں اسمارٹ ہوم ہب پیش کرنے کے بعد لاس اینجلس میں یہ ایونٹ منعقد کر رہا ہے۔ جہاں وہ مصنوعات ایپل کے لیے نئی مارکیٹس کو آزمائیں گی وہیں لاس اینجلس ایونٹ ایک پرانا سوال دوبارہ زندہ کر سکتا ہے کہ کیا ایپل کو اپنی قدیم ترین پروڈکٹ لائن میں وہ ٹچ اسکرین لگانی چاہیے جسے اس نے آئی فونز اور آئی پیڈز میں عام کیا؟

ایپل کے ایگزیکٹوز طویل عرصے سے اس خیال کی مزاحمت کرتے آئے ہیں، اسٹیو جابز نے سنہ 2010 میں کہا تھا کہ لیپ ٹاپ پر ٹچ اسکرین ’ارگونومک طور پر خوفناک‘ ہیں اور اس وقت کے سی ای او ٹم کک نے سنہ 2012 میں کہا تھا کہ ایسے آلات صارفین کے لیے اتنے ہی خوشگوار ہوں گے جتنے ٹوسٹر اور ریفریجریٹر کو ضم کرنا۔ موجودہ سی ای او بننے سے قبل جان ٹرنس نے دلیل دی تھی کہ ایپل پہلے ہی آئی پیڈ لائن اپ کے ساتھ ٹچ اسکرین کمپیوٹر بنا رہا ہے۔

لیکن ٹچ اسکرینز ایک دہائی سے زائد عرصے سے ونڈوز ڈیوائسز پر وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں اور آئی فون کی دو دہائیوں کی سالگرہ قریب آنے کے ساتھ، خریداروں کی نئی نسل توقع کرتی ہے کہ اسکرینز ٹچ پر ردعمل دیں۔

مزید پڑھیے: ایپل نے مارکیٹ ویلیو کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہونے کا اعزاز این ویڈیا سے واپس چھین لیا

مور انسائٹس اینڈ اسٹریٹیجی کے تجزیہ کار انشل ساگ نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ وہ ٹچ کے خلاف مزاحمت میں ہمیشہ غلط تھے اور یہ حقیقت کا طویل ہاتھ ہے جو اب سامنے آ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ چیزیں خالصتاً ناگزیر ہوتی ہیں۔

ایپل کے لیے ایک اہم سوال یہ ہے کہ صارفین کیسا ردعمل دیں گے۔ کمپنی نے میک کی فروخت میں اضافہ دیکھا ہے، لیکن اس ترقی کا زیادہ حصہ ٹیکنالوجی کے شوقین افراد اور کاروباروں میں رہا ہے جو آن ڈیوائس اے آئی ٹاسکس کو سنبھالنے کے لیے یہ مشینیں خرید رہے ہیں۔

اگرچہ ایپل نے اس ہفتے نئے ایم 6 چپ کے ساتھ اپنے میک بک پرو کے بیس ماڈل کا اپ گریڈ اعلان کیا، بلومبرگ نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ کمپنی اپنے موجودہ ایم 5 پرو اورایم 5 میکس چپس کے ساتھ ٹچ اسکرین ماڈلز بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے جو پہلے سے میک بک پرو ماڈلز میں موجود ہیں یعنی نئی مشینوں کو موجودہ ماڈلز کے مقابلے میں نمایاں کارکردگی میں اضافہ نہیں ملے گا۔

مزید پڑھیں: ایپل کے نئے آئی پیڈ منی کی تفصیلات لیک، 28 اکتوبر کو متعارف کرائے جانے کا امکان

ٹیک مبصر جیسن کالاکینس کا کہنا ہے کہ لوگوں کو صرف لوکل ماڈلز کے لیے زیادہ میموری اور بہتر پروسیسرز چاہییں۔

ایپل کا یوٹرن

یاد رہے کہ ایپل کے بانی اسٹیو جابز ٹچ اسکرین لیپ ٹاپ کے سخت مخالف تھے۔ سنہ 2010 میں انہوں نے اسے انتہائی ناموزوں قرار دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر صارف کو بار بار اسکرین کو چھونے کے لیے ہاتھ اوپر کرنا پڑے تو بازو تھک جائے گا۔ اس کے بعد سنہ 2012 میں اس وقت کے سی ای او ٹم کک نے بھی اس آئیڈیا کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ ٹچ لیپ ٹاپ بنانا ایسا ہی ہے جیسے ٹوسٹر اور ریفریجریٹر کو آپس میں جوڑ دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے: ایپل کے نئے آئی پیڈ منی کی تفصیلات لیک، 28 اکتوبر کو متعارف کرائے جانے کا امکان

لیکن 15 سال بعد ایپل خود اسی راستے پر چل پڑا ہے۔ کمپنی بدھ کو لاس اینجلس میں اپنا پہلا ٹچ اسکرین میک بک متعارف کرانے جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ونڈوز میں ایک دہائی سے ٹچ عام ہے اور نئی نسل اب ہر اسکرین سے ٹچ کی توقع کرتی ہے اس لیے ایپل کے لیے یہ ناگزیر ہو گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp