پاکستان اور چین کے درمیان اہم تجارتی معاہدہ، خنجراب بارڈر پر گرین چینل فعال، آمد و رفت میں مزید آسانیاں

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور چین نے سوست۔خنجراب سرحد کے ذریعے زرعی اور متعلقہ مصنوعات کی دوطرفہ تجارت تیز، مؤثر اور آسان بنانے کے لیے گرین چینل فعال کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت مخصوص اشیائے زراعت کی کھیپوں کو ترجیحی بنیادوں پر کسٹمز کلیئرنس اور جانچ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

معاہدے پر جمعرات کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)  میں دونوں ممالک کے کسٹمز حکام نے آن لائن دستخط کیے۔ پاکستانی وفد کی قیادت ممبر کسٹمز (آپریشنز) سید شکیل شاہ نے کی، جبکہ چینی وفد کی سربراہی ارومچی کسٹمز کے ڈپٹی سربراہ اور تاشقُرغان کسٹمز کے ڈائریکٹر لی چنگ ہوا نے کی۔

یہ بھی پڑھیں:خنجراب بارڈر پر سال کی پہلی برفباری، دلکش مناظر نے سیاحوں کے دل موہ لیے

ایف بی آر کے سرکاری اعلامیے کے مطابق معاہدے کا بنیادی مقصد زرعی اور متعلقہ مصنوعات کی متفقہ فہرست کے لیے گرین چینل قائم کرنا ہے، جس کے تحت اہل تجارتی کھیپوں کو ترجیحی بنیادوں پر پراسیسنگ اور معائنے کی سہولت دی جائے گی۔

تاہم کسٹمز کے رسک پر مبنی کنٹرولز برقرار رہیں گے تاکہ تجارتی سہولت کے ساتھ نگرانی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

معاہدے میں دونوں ممالک کے کسٹمز اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور ممکنہ تجارتی خطرات سے متعلق بروقت انتباہ جاری کرنے کو بھی مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

اس اقدام کا مقصد باہمی رابطوں اور ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانا اور سرحد پار تجارت کے انتظام کو مزید بہتر کرنا ہے۔

خراب ہونے والی اشیا کو ترجیحی بنیادوں پر کلیئرنس ملے گی

معاہدے کے تحت جلد خراب ہونے والی زرعی اور دیگر متعلقہ مصنوعات کی کھیپوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے گا، تاکہ کسٹمز کارروائی کے دوران تاخیر کم سے کم ہو اور اشیا بروقت سرحد پار پہنچ سکیں۔

اس انتظام کو بالخصوص ان تجارتی کھیپوں کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے جن کی ترسیل میں تاخیر سے معیار متاثر ہونے یا مالی نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔

ترجیحی پراسیسنگ کے ذریعے زرعی تجارت کی کارکردگی بہتر بنانے اور سرحدی کلیئرنس کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

پاکستانی وفد میں متعلقہ اداروں کے نمائندے بھی شامل

معاہدے پر دستخط کے موقع پر پاکستانی وفد میں چیف کلکٹر کسٹمز پشاور، کلکٹر کسٹمز گلگت بلتستان، محکمہ تحفظ نباتات (ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن)، نیشنل ایگریکلچر فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ (نافسا)، پاکستان سنگل ونڈو اور وزارت تجارت کے نمائندے بھی شامل تھے۔

مزید پڑھیں:’کچھ بن کے دکھاؤ‘، خنجراب سے گوادر تک 5 ہزار کلومیٹر سفر سائیکل پر طے کرنے کی مہم کا آغاز

اس کے علاوہ چین میں پاکستانی سفارت خانے کے کمرشل قونصلر نے بھی وفد میں شرکت کی۔

مختلف متعلقہ اداروں کی شمولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرین چینل کے نفاذ میں کسٹمز کارروائی کے ساتھ زرعی مصنوعات کے تحفظ، تجارتی سہولت کاری، معلومات کے تبادلے اور متعلقہ حکومتی ضوابط کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔

سوست۔خنجراب سرحد پاکستان اور چین کی تجارت کے لیے اہم گزرگاہ

خنجراب پاس گلگت بلتستان کو چین کے سنکیانگ خطے سے ملاتا ہے اور سطح سمندر سے تقریباً 15,500 فٹ بلندی پر واقع دنیا کی بلند ترین پختہ بین الاقوامی سرحدی گزرگاہ ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان 1985 میں طے پانے والے سرحدی پروٹوکول معاہدے کے تحت یہ گزرگاہ عام طور پر اپریل سے نومبر تک سفر اور تجارت کے لیے کھلی رہتی ہے۔ تاہم، موسم سرما میں شدید برف باری کے باعث یہاں آمدورفت اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔

جغرافیائی محل وقوع اور موسمی حالات کے باعث اس سرحدی گزرگاہ سے تجارت کے لیے مؤثر کسٹمز انتظامات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

گرین چینل کے فعال ہونے سے مخصوص زرعی مصنوعات کی ترسیل میں سہولت، کلیئرنس کے وقت میں کمی اور دونوں ممالک کے تجارتی روابط کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

گزشتہ سال خنجراب کے راستے درآمدات پر 15 ارب روپے کسٹمز ریونیو

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال پاکستان کسٹمز نے خنجراب پاس کے راستے چین سے ہونے والی درآمدات پر 15 ارب روپے کا ریونیو جمع کیا، جو اس گزرگاہ کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن کا سابقہ ریکارڈ توڑنے والا حجم تھا۔

یہ بھی پڑھیں:پاک چین سرحد خنجراب پاس کے ذریعے تجارت کرنے والوں کے لیے خوشخبری

اسی عرصے کے دوران اس سرحدی گزرگاہ کے ذریعے چین اور وسطی ایشیائی ممالک کو 2.8 ارب روپے مالیت کی اشیا بھی برآمد کی گئیں، جو اس راستے کی تجارتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔

دوطرفہ تجارت اور کسٹمز تعاون

پاکستان اور چین کے درمیان گرین چینل کا معاہدہ زرعی اور متعلقہ مصنوعات کی سرحد پار نقل و حرکت بہتر بنانے، کسٹمز اداروں کے درمیان رابطے مضبوط کرنے اور تجارتی عمل میں غیر ضروری تاخیر کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

معاہدے پر عمل درآمد سے متفقہ فہرست میں شامل مصنوعات کی ترسیل زیادہ منظم ہونے اور جلد خراب ہونے والی اشیا کی بروقت نقل و حرکت میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

اس طرح سوست۔خنجراب سرحد کے ذریعے زرعی تجارت کو سہولت دینے اور پاکستان و چین کے تجارتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp