طالبان سربراہ ملا ہیبت اللہ کی کتاب کے زریں اصول اور کالعدم ٹی ٹی پی کی دہشتگرد کارروائیوں میں کھلا تضاد

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی تصنیف میں درج پرامن، مذہبی اصول، مسلح بغاوت اور تحریک طالبان پاکستان کی دہشتگرد کارروائیاں ایک دوسرے سے شدید متصادم ہیں، جس سے افغان طالبان کی پالیسیوں پر بڑے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی کتاب ’د اہل السنة والجماعة عقیده‘ میں مسلمانوں کی جان و مال کے احترام، تکفیر سے اجتناب اور مسلح بغاوت سے گریز پر زور دیا گیا ہے، جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی دہشتگرد کارروائیاں ان اصولوں سے مکمل طور پر متصادم ہیں۔

چونکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان افغان طالبان کو اپنا نظریاتی رول ماڈل تسلیم کرتی ہے، اس لیے یہ سوال شدت سے پیدا ہوتا ہے کہ کیا مذہب کے نام پر بے گناہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی مسلح کارروائیوں کا کوئی جواز بنتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کا معاملہ: زلمے خلیل زاد کا ایک اور زہریلا پروپیگنڈا اور پاکستان کا جواب

ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی اس کتاب میں بیان کردہ اصولوں کے مطابق مسلمانوں کی جان و مال کا احترام، تکفیر سے اجتناب، عدل و امانت داری اور اجتماعی وحدت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

کتاب کے صفحات 131 اور 132 میں مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے سے اجتناب اور ان کی جان و مال کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔

 لیکن پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے شہریوں اور ریاستی اہلکاروں کے خلاف مسلح کارروائیاں اس اصول سے واضح تضاد کا سوال پیدا کرتی ہیں۔

اگر مسلمانوں کی جان محفوظ رکھنا دینی ذمہ داری ہے، تو مذہب کے نام پر تشدد کی توجیح کیسے کی جا سکتی ہے؟

مسلح بغاوت اور تکفیر سے متعلق مذہبی احکامات

کتاب کے صفحہ 133 پر حکمران کے ظلم کے باوجود بغاوت سے گریز کی تلقین کی گئی ہے، سوائے اس صورت کے جب اللہ کی نافرمانی کا حکم دیا جائے۔ اس اصول کی روشنی میں کالعدم ٹی ٹی پی کی مسلح جدوجہد اور تشدد پر مبنی حکمت عملی کے مذہبی جواز کا جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

مزید یہ کہ کتاب کے صفحات 108 اور 109 میں محض گناہ کی بنیاد پر کسی مسلمان کو کافر قرار دینے سے روکا گیا ہے، جبکہ صفحات 135 سے 139 تک فرقہ واریت اور اجتماعی وحدت کو نقصان پہنچانے والے اختلافات کی پرزور مذمت کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:کرم میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 12 خوارج اور افغان طالبان ہلاک، نائب صوبیدار شہید

ایسے میں تکفیر پر مبنی نظریات اور مسلح کارروائیوں کے ذریعے معاشرے میں خوف پھیلانا ان اصولوں سے قطعی مطابقت نہیں رکھتا۔

عدل، امانت داری اور افغان طالبان کی ذمہ داری

کتاب کے صفحہ 141 پر عدل، امانت داری اور خیانت سے اجتناب کو دینی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ یہ اصول بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ مذہبی دعوؤں کو محض نعروں کی بجائے عملی کردار سے پرکھا جائے۔

ان حقائق کے بعد افغان طالبان کی ذمہ داری بھی انتہائی اہم ہو جاتی ہے، کیونکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان افغان طالبان کو اپنا نظریاتی نمونہ تسلیم کرتی ہے۔

اس لیے افغان طالبان کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں، کیونکہ سرحد پار حملوں اور کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنا ان کے مذہبی دعوؤں اور عملی پالیسی کے درمیان سنگین تضاد کے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

عمل ہی اصل کسوٹی ہے

مذہب کے نام پر کیے جانے والے دعوؤں کی اصل کسوٹی کردار اور عمل ہے۔ افغان طالبان کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ، عدل اور امن کے اپنے بیان کردہ اصولوں کو عملی اقدامات سے ثابت کریں اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکیں، کیونکہ مذہبی اصولوں کی حقیقی پاسداری صرف بیان سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp