پاکستان کے اعلیٰ حکام نے انگور اڈا سرحدی آبادی پر بلا اشتعمال فائرنگ سے متعلق افغان طالبان حکومت کے مؤقف کو حقائق مسخ کرنے اور اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق طالبان فورسز نے پاکستانی حدود میں شہریوں پر بلااشتعال فائرنگ اور مارٹر گولے برسائے، جس کے جواب میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے مخالف فورسز کی فائرنگ خاموش کرائی، بھاری جانی نقصان پہنچایا اور دہشتگردوں کو اسپانسر کرنے والے7 ٹھکانے تباہ کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک افغان جھڑپیں: 200 سے زیادہ طالبان و دہشتگرد ہلاک، 23 پاکستانی جوان شہید، دہشتگردی کے درجنوں ٹھکانے تباہ
حکام کے مطابق افغان طالبان حکومت اپنی عسکری ناکامیوں پر پردہ ڈالنے، حقائق چھپانے اور ذمہ داری سے بچنے کے لیے پروپیگنڈا کر رہی ہے، تاہم پاکستان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور مزید جارحیت کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔
پاکستانی حدود میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا
پاکستانی حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انگور اڈہ کے مقام پر افغان طالبان حکومت کی فورسز نے پاکستانی حدود میں موجود غیر مسلح شہریوں پر بلااشتعال فائرنگ کی اور مارٹر گولوں سے حملہ کیا۔
𝐅𝐚𝐜𝐭 𝐂𝐡𝐞𝐜𝐤 | 𝐌𝐢𝐧𝐢𝐬𝐭𝐫𝐲 𝐨𝐟 𝐈𝐧𝐟𝐨𝐫𝐦𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 & 𝐁𝐫𝐨𝐚𝐝𝐜𝐚𝐬𝐭𝐢𝐧𝐠
◼️ Afghan Taliban regime’s latest fabrication of lies on Angoor Adda border incident again confirms their deceitful character. Fact of the matter is that their cowardly forces initiated unprovoked fire and mortar shelling on unarmed civilians on Pakistani side, following pattern and instructions of their proxy masters India.
◼️ Immediate, effective and disproportionate response by our brave and proud security forces not only silenced their guns but inflicted heavy casualties to their men in addition to material losses including destruction of seven posts.
◼️ Such lies of Taliban regime so called official spokespersons carry no value and are part of a litany of fabricated stories that they keep on telling, mostly to their own people suffering under their imposed and non representative regime.
𝐓𝐫𝐮𝐭𝐡 𝐏𝐫𝐞𝐯𝐚𝐢𝐥𝐬 𝐎𝐯𝐞𝐫 𝐅𝐚𝐥𝐬𝐞𝐡𝐨𝐨𝐝
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) October 28, 2026
بیان میں اس کارروائی کو شہریوں کی جانوں اور پاکستان کی خودمختاری کو نظرانداز کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
حکام کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان فورسز کی اس مبینہ جارحیت کے جواب میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری، مؤثر اور بھرپور کارروائی کی، جس کے نتیجے میں مخالف فورسز کی فائرنگ خاموش ہو گئی، انہیں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا اور ان کے 7 دہشتگرد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
افغان طالبان حقائق مسخ کرنے اور پروپیگنڈا کرنے میں مصروف
پاکستانی حکام نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے انگور اڈہ واقعے سے متعلق سامنے آنے والے مؤقف کو حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی عسکری ناکامیوں کو چھپانے اور عوامی رائے کو گمراہ کرنے کے لیے من گھڑت بیانیہ پیش کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں:افغانستان کی جارحیت: پاکستان کا جوابی کارروائی میں فضائی وسائل اور ڈرونز کا استعمال
افغان طالبان حکومت کے ترجمان بیانات کے ذریعے واقعات کی اپنی مرضی کے مطابق تشریح تو کر سکتے ہیں، لیکن اس طرح جارحیت کے نتائج کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی سیکیورٹی سے متعلق ناکامیوں پر پردہ ڈالا جا سکتا ہے۔
پاکستانی مؤقف ہے کہ افغان طالبان حکومت کے دعوے ان بیانات کے ایک تسلسل کا حصہ ہیں جنہیں پاکستان نے من گھڑت قرار دیا ہے۔ اس نوعیت کے بیانیے بالخصوص افغان طالبان کی حکومت کے زیرِ اقتدار زندگی گزارنے والے افغان عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں۔
بھارت پر افغان طالبان کو مبینہ طور پر اکسانے کا الزام
حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان فورسز کی کارروائیاں دراصل بھارت کی سرپرستی اور ہدایات پر ہو رہی ہیں جن کے ثبوت واضح ہیں۔ افغان طالبان فورسز نے اپنے بھارتی سرپرستوں کی ہدایات کے مطابق پاکستانی حدود میں بلااشتعال فائرنگ اور مارٹر حملے کیے۔
پاکستان کی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں ہوگا
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملکی خودمختاری ناقابلِ سمجھوتا ہے اور افغان طالبان حکومت کو اشتعال انگیز کارروائیوں سے گریز کرنا ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی مزید جارحیت کی صورت میں ذمہ دار عناصر کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی وزیرستان: دہشتگردوں سے مقابلے میں آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر مصطفیٰ کمال شہید
اس میں افغان طالبان حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مخالفانہ کارروائیوں کا سلسلہ ترک کرے اور سرحدی کشیدگی میں اضافے سے گریز کرے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پروپیگنڈا اور من گھڑت دعوے حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتے کیونکہ سچائی ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتی ہے‘۔











