ایف آئی اے پشاور زون نے ایک کامیاب اور بر وقت کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول میں ملوث 4 افغان باشندوں کو گرفتار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان دور میں پوست کی کاشت 4 گنا بڑھ گئی، اقوام متحدہ
حکام کے مطابق ایف آئی اے پشاور زون کو مصدقہ اور خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کچھ افغان باشندے ایجنٹوں کی ملی بھگت سے غیر قانونی طریقوں کے ذریعے پاکستانی قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں اور اس مقصد کے لیے شاہین ٹاؤن پشاور میں واقع اسپن غر ہاسٹل میں مقیم ہیں۔
اطلاع پر فوراً ایکشن لیتے ہوئے ایف آئی اے، اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل پشاور کی ٹیم نے بتائے گئے ہاسٹل پر چھاپہ مار کر 4 افغان باشندوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت صدیق اللہ، رحمت اللہ، عبداللہ اور ناصر کے ناموں سے ہوئی ہے جن کا بنیادی تعلق افغانستان سے ہے۔
چھاپے کے دوران ملزمان کے قبضے سے ان کی اپنی تصاویر والے جعلی پاکستانی قومی شناختی کارڈز کی نقول برآمد کر کے تحویل میں لے لی گئیں۔
ابتدائی تفتیش اور روایتی بازپرس کے دوران گرفتار ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے یہ تمام جعلی پاکستانی شناختی کارڈز مبینہ طور پرطلعت عرف پیر نامی ایک ایجنٹ کی مدد سے تیار کروائے تھے۔ مزید برآں گرفتار افغان باشندے تفتیش کے دوران اپنا قانونی پاکستانی ویزا پیش کرنے میں بھی ناکام رہے۔
مزید پڑھیے: پنجاب سے 37 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان باشندے ڈی پورٹ؛ انخلا کا عمل تیز
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف ایف آئی اے اے ایچ ٹی سی پشاور میں مقدمہ نمبر 208/2026 درج کر لیا گیا ہے۔ یہ پرچہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 419، 420، 468، 471 اور 109 بمعہ فارنرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 14 کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔











