راجہ فاروق حیدر کے بیانات میں تضاد، اسلام آباد کو وفاق ماننے سے انکار پر تنقید

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

راجہ فاروق حیدر کے کشمیر کے پاکستان سے الحاق، اسلام آباد کے وفاقی کردار اور علاقائی قوم پرستی سے متعلق ماضی کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کے حالیہ مؤقف اور سابقہ بیانات میں واضح تضاد دکھائی دیتا ہے۔

راجہ فاروق حیدر نے ماضی میں کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے حوالے سے سوالات اٹھائے تھے، جبکہ 2017 میں نواز شریف کی نااہلی کے بعد بھی انہوں نے کہا تھا کہ کشمیریوں کو سوچنا ہوگا کہ اپنی قسمت پاکستان سے جوڑیں یا نہیں۔ بیان کے مطابق اب اسلام آباد کو وفاق ماننے سے انکار کرنا ان کے سابقہ مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔

راجہ فاروق حیدر نے جون میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا اور اسلام آباد کو آزاد کشمیر میں قانون نافذ کرنے کا آئینی ذمہ دار قرار دیا تھا، تاہم اب ان کا مؤقف تبدیل ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:راجہ فاروق حیدر کے دعوے اور طرزِ حکمرانی، سیاسی بیانات اور فیصلوں پر سوالات

جولائی 2026 میں راجہ فاروق حیدر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان کو فتنہ قرار دیتے تھے، لیکن اب انہی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان پر اقتدار کے لیے سیاسی مؤقف تبدیل کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

 راجہ فاروق حیدر نے ماضی میں آزاد کشمیر حکومت کے لیے اسلام آباد سے فنڈز حاصل کیے، لیکن اب وفاقی دارالحکومت کے کردار کو تسلیم نہیں کر رہے۔ بیان میں ان کے اس مؤقف کو دوہرا معیار قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیر کسی کی ذاتی جاگیر نہیں اور اس کے مستقبل سے متعلق فیصلے ذاتی یا سیاسی مفادات کی بنیاد پر نہیں ہونے چاہییں۔

کشمیری شہدا کی قربانیاں پاکستان کے ساتھ وابستگی کی علامت ہیں، جبکہ علاقائی قوم پرستی کشمیری عوام کو متحد کرنے کے بجائے تقسیم کر سکتی ہے۔  کشمیر کے مستقبل اور اس کے سیاسی تشخص سے متعلق بحث میں پاکستان کے ساتھ تعلق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp