راجہ فاروق حیدر کے دعوے اور طرزِ حکمرانی، سیاسی بیانات اور فیصلوں پر سوالات

اتوار 18 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے 2017 میں نواز شریف کی نااہلی کے بعد یہ سوال اٹھایا تھا کہ بطور کشمیری انہیں اپنی قسمت پاکستان سے جوڑنے یا نہ جوڑنے کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔ اس بیان پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے خلاف متعدد ریفرنس دائر ہوئے۔ 2019 میں لائن آف کنٹرول کے حوالے سے ان کے بیانات بھی زیرِ بحث رہے۔ انہوں نے ایل او سی کو روندنے اور اسے مٹانے کی بات کی تھی، جبکہ ان کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریاں اس معاملے میں رکاوٹ ہیں۔

راجہ فاروق حیدر کے دورِ حکومت میں سادگی کے دعوؤں پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ تنقید کرنے والوں کے مطابق وزیراعظم اور وزرا کی تنخواہوں اور مراعات میں 200 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا گیا، جبکہ مالی خسارے کے باوجود سرکاری گاڑیوں کی خریداری کی تیاری کی گئی۔ اسی طرح کابینہ کو 12 ارکان تک محدود رکھنے کے وعدے کے برعکس وزرا کی تعداد 26 تک پہنچنے پر بھی اعتراض کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:فاروق حیدر نے وزیراعظم آزاد کشمیر سے بڑا مطالبہ کردیا

بلدیاتی انتخابات 6 ماہ میں کرانے کا وعدہ پورا نہ ہونے اور منتخب نمائندوں کے بجائے حکمران جماعت کے کارکنوں کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے پر بھی تنقید کی گئی۔ ریٹائرڈ اعلیٰ سرکاری افسران کو دی جانے والی مراعات ہائیکورٹ نے ختم کردیں، جبکہ ان کی حکومت میں ہائیکورٹ کے 5 ججوں کی تقرری کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دیا۔

راجہ فاروق حیدر کے ناقدین ان معاملات کو ان کے سیاسی دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان تضاد قرار دیتے ہیں۔ جولائی 2026 میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو ’فتنہ‘ کہنے اور اکتوبر میں اسی سے مذاکرات کا مشورہ دینے کے مؤقف کو بھی ان کے بدلتے سیاسی رویے کی مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp