امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات سے قبل صحافی کے تلخ سوال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ویک اینڈ کے اہم جلسے منسوخ کر دیے ہیں اور ان کی جگہ ورچوئل ریلیوں کا اعلان کیا ہے۔
جنوبی کیرولائنا کے انتخابی دورے سے واشنگٹن واپسی پر روئٹرز کے رپورٹر نے 80 سالہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا وہ مسلسل سفر سے اکتا چکے ہیں اور ان کی صحت کیسی ہے؟۔ اس سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ شدید غصے میں آ گئے اور آپے سے باہر ہو گئے۔
’تم بدصورت اور بیمار انسان ہو‘
ٹرمپ نے صحافی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’تم یہ سوال پوچھنے کے لیے بیمار ہو، تم بیمار ہو، میں بالکل ٹھیک محسوس کرتا ہوں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’تم گھناؤنے ہو، اپنی صحت درست کرو، تم بدصورت لگتے ہو۔‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رپورٹر 2 ہفتوں سے ان کے ساتھ ہے مگر ان کی توانائی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی مڈ ٹرم انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
ریپبلکن پارٹی اور ریپبلکن نیشنل کمیٹی نے جمعرات کو ایک اہم بیان میں اعلان کیا کہ صدر ٹرمپ کے ویک اینڈ پر ہونے والے طے شدہ ان پرسن جلسے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
منسوخ کیے گئے اجتماعات میں ہفتے کے روز کینساس کے شہر سلینا اور اتوار کو آئیووا کے شہر ڈوبیوک کے بڑے جلسے شامل ہیں۔
کینساس اور آئیووا میں سخت انتخابی معرکہ
کینساس میں سینیٹر راجر مارشل کا ڈیموکریٹک حریف ایڈم ہیملٹن کے ساتھ غیر متوقع اور سخت مقابلہ جاری ہے۔
اس کے باوجود ٹرمپ نے مارشل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور منگل کی رات ان کی کامیابی ہوگی، جبکہ آئیووا میں بھی کئی اہم کانگریشنل سیٹوں پر سخت انتخابی معرکہ متوقع ہے۔
ان پرسن جلسوں کے متبادل کے طور پر اب ریپبلکن پارٹی کی جانب سے ورچوئل مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
’ میک امریکا گریٹ آگین ‘ کے تعاون سے کم از کم 19 ریاستوں میں ورچوئل ’ٹیلی ریلیوں‘ کا بڑا سلسلہ منعقد ہوگا، جبکہ آر این سی کا کہنا ہے کہ ریپبلکنز کی مضبوط پوزیشن کی وجہ سے ان پرسن جلسے ختم کیے گئے ہیں۔
تھکا دینے والی مسلسل انتخابی مہم
تاریخ کے معمر ترین امریکی صدر نے اکتوبر کے مہینے میں انتہائی مصروف اور تھکا دینے والی انتخابی مہم چلائی ہے۔
یکم اکتوبر سے اب تک انہوں نے 19 ریاستوں میں 25 بڑے جلسوں سے خطاب کیا ہے، جن میں سے زیادہ تر جلسے دیہی اور ریپبلکن حمایت یافتہ علاقوں میں منعقد کیے گئے۔
گلا بیٹھنے اور مسلسل مصروفیت کا اعتراف
مسیسپی میں پیر کو گلا بیٹھنے پر ٹرمپ نے خود بھی مسلسل جلسوں کی دشواری کا اعتراف کیا تھا۔ انہوں نے تقریر کے دوران کہا تھا کہ ’خدا نے آپ کے ووکل کارڈز کو روزانہ جلسہ کرنے کے لیے نہیں بنایا۔‘
مزید پڑھیں:ٹرمپ کے اسٹیج پر گلوکاروں کی موجودگی میں نکی مناج کے جسم سے متعلق متنازع بیان کی تفصیل سامنے آگئی
اس کے علاوہ انہوں نے جمعرات کو جنوبی کیرولائنا میں سینیٹر ڈارلین گراہم کے لیے بھی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔
3 نومبر کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات امریکی سیاست کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ انتخابات طے کریں گے کہ ریپبلکن پارٹی امریکی سینیٹ اور ہاؤس آف ریپبلز کا کنٹرول برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔
کم مقبولیت کے باوجود ٹرمپ نے ووٹرز ٹرن آؤٹ بڑھانے کے لیے پارٹی سے کہا ہے کہ ’سمجھیں میں ہی بیلٹ پر ہوں‘، جبکہ ان کا آخری ان پرسن انتخابی جلسہ جمعہ کو فلوریڈا میں ہوگا۔











