مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا

جمعہ 30 اکتوبر 2026
author image

خرم شہزاد

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کسی زمانے میں خیال تھا کہ اصل طاقت پُر اثر تحریر کی ہوتی ہے۔ کچھ عرصے بعد اندازہ ہوا کہ اصل طاقت پُر اثر تحریر کی نہیں بلکہ اس تحریر کی ہوتی ہے جو لوگوں کو زیادہ پسند آئے۔

پھر پتا چلا کہ اصل طاقت وہ ہوتی ہے جو کسی بھی تحریر کی بنا پر ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ تعلقات بنا کر حاصل کی جاتی ہے۔ تھوڑا سفر مزید طے کیا تو جانا کہ زیادہ قیمت اس تحریر کی ہوتی ہے، جو کسی کے حق میں لکھّی جائے یا کسی کے کہنے پر کسی کے خلاف۔

مقبول بھی وہی تحریر ہوتی ہے جس کا موضوع اکثریت کے لیے فائدے یا نقصان کا باعث بنے۔ نیوٹرل تحریر کا وہی حال ہوتا ہے جو عمران خان کے نیوٹرل جانور کا۔۔۔۔!۔

یہ ساری باتیں بھلے وقتوں کی ہیں۔ غالباً اس وقت سے بھی پہلے کی، جب عمران خان نے ابھی ’نیوٹرل‘ جانوروں کو جنگل میں دھکیل کر مقبولیت اور قبولیت کی اَسناد نہیں پائی تھیں۔

پھر انہوں نے یہ دونوں منازل طے کر لیں، اس کے ساتھ ہی تحریروں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا انداز بھی بدلنے لگا۔ اگر کسی زمانے میں شریفانِ پنجاب کی مدح سرائی عالی مرتبت ہونے کی راہوں میں سے ایک راہ تھی اور کچھ مخصوص حلقوں کی فرمائشوں پر کچھ لوگوں کی کردار کشی، دوسری تو ’نیوٹرل‘ جانوروں کو جنگل میں دھکیلے جانے کے بعد تحریروں کی قبولیت ہی کامیابی شمار ہونے لگی۔

یعنی کہ لکھا ہوا جتنا بھی مُدلل، شاندار اور مبنی بر حق ہو، وہ قابل قبول تبھی ہوتا، جب وہ کسی صاحب منزلت کی پیشانی پر بل ڈالنے سے قاصر ہو۔

پھر زمانے نے ایک اور کروٹ لی اور لکھے ہوئے الفاظ تو ایک طرف، اگر وہ قبولیت کے پیمانے پر پورے نہیں اترتے تو ان کا لکھنے والا بھی قبولیت کے دائرے سے باہر ہے اور یا تو ’نیوٹرلز‘ کے جنگل کا باسی یا پھر شہرِ خموشاں کا مقیم بننے کا حقدار کہ اس کی تحریر پارہ  حقارت ہے۔

ابھی تحریر کی اثر انگیزی، مقبولیت اور قبولیت کے کئی پرت کچھ تہوں کے نیچے ہی تھے کہ ایک عقدہ اور کھلا کہ اصل کامیابی سحر انگیز اور شعلہ بیانی کی ہے۔

یعنی آپ جتنے بھی عقل مند ہوں یا آپ کا دماغ کتنے ہی متنوع خیالات سے روشن کیوں نہ ہو، اگر آپ ان خیالات کو سحر انگیز گفتگو یا شُعلہ بیانی کا روپ نہیں دے سکتے تو آپ کسی کام کے نہیں ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج دل اُبل اُبل کر کہہ رہا ہے کہ جناب محترم قائد ملت مولانا فضل الرّحمان اور جنابِ محافظ پاکستان، فخر سیالکوٹ وزیرِ سپاہ خواجہ محمد آصف صاحب! کو سرخ اور فرشی سلام بیک وقت پیش کیے جائیں۔

کیوںکہ ان دونوں حضرات نے شُعلہ بیانی میں وہ کمال پایا ہے جو وقتِ موجود میں شاید ہی کسی اور کے حصّے میں آیا ہو۔

جب یہ اسمبلی میں کھڑے ہو کر ’دہن مبارک‘ سے الفاظ کو توپوں کے گولوں کی مانند باہر پھینکتے ہیں اور ساتھ جُگتوں کا تڑکا لگاتے ہیں تو ہر سننے والا اَش اَش کر اٹھتا ہے کیونکہ ان دونوں صاحبان کے کلامِ خاص سے شُعلوں کے ساتھ ساتھ زُعفرانیاں بھی پھوٹتی ہیں۔

قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں جب پہلے مولانا صاحب نے اپنی اس صلاحیتِ خاص کے بھرپور استعمال کی سعی کرتے ہوئے ریاست پر تھوکنے سے انکار کیا اور پھر اگلے روز اس کے جواب میں خواجہ محمد آصف نے ایک مرتبہ پھر ’کوئی شرم، کوئی حیا ‘کا درس دیا تو یقین مانیےکہ اب لگتا ہے کہ شُعلہ بیانی ہی اصل طاقت ہے اور اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے منہ سے نکلنے والے لفظوں کے انگارے اور جُگتوں کے استعارے کتنے سچے ہیں اور کتنے جھوٹے ہیں۔

21 ویں صدی کے اوائل میں جب مولانا صاحب جنرل پرویز مشرف کی سجائی پارلیمان میں قائد حزبِ اختلاف کے مَرتبے پر فائز ہوئے اور جمہوریت کی بازیابی کے لیے اپنے ’مُتبرک‘ کندھے پیش کیے تو کئی دوسرے لوگوں کی طرح ہم بھی یہ سمجھتے تھے کہ یہ جمہوریت کا حسن ہے کہ جہاں ایک طرف روشن خیال جنرل مشرف صدر پاکستان ہیں، تو وہیں مولانا جیسے طالبان دوست اپوزیشن لیڈر بھی موجود ہیں۔ لیکن پھر جوں جوں مولانا کی سیاست آگے بڑھتی گئی توں توں سمجھ آتی گئی کہ۔۔!

تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی، محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو

تڑپنے پہ میرے نہ پھر تم ہنسو گے کبھی، دل کسی سے لگا کر تو دیکھو

اور خواجہ، خواجگان جناب محمد آصف صاحب کے تو کیا کہنے!۔ ان کی تو اسٹیبلشمنٹ اور افواج پاکستان کے خلاف کی گئی شُعلہ بیانیوں سے تو ایوان اسمبلی کے در و دیوار آج بھی سرخ ہیں۔

آج جس شَد و مَد سے وہ دیوار کی دوسری طرف کھڑے ہو کر دفاع کا فریضہ انجام دے رہے ہیں اور اپنی شُعلہ بیانی اور جُگت بازی سے اپنی ڈیوٹی نبھا رہے ہیں، وہ بھی بے مثال ہے۔

کیا فرق پڑتا ہے کہ ان کی کل کی شُعلہ بیانی اور جُگت بازی ان کے آج سے متصادم ہے اور کیا فرق پڑے گا جب ان دونوں حضرات کی شُعلہ بیانی اور جُگت بازی ان کے آج سے متصادم ہو گی۔

بقول نظیر اکبر آبادی

کلجگ نہیں کرجگ ہے، یہ یاں دن کو دے اور رات لے

کیا خوب سودا نقد ہے، اِس ہات (ہاتھ ) دے اُس ہات لے

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

عالمی انتخابات اور ٹرمپ کا پنوتی دست شفقت