کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں اپنا ووٹ کاسٹ کردیا ہے،جس کی ویٹیکن نے تصدیق کردی۔ وہ امریکا میں پیدا ہونے والے پہلے پوپ ہیں اور انہوں نے شکاگو میں ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ بھیجا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ویٹیکن نے جمعے کو جاری بیان میں بتایا کہ پوپ لیو چہاردہم نے امریکی شہری کی حیثیت سے ووٹ ڈالنے کا حق استعمال کیا ہے۔ ویٹیکن کے مطابق پوپ جب بھی ووٹ ڈالنے کے اہل رہے، انہوں نے انتخابی عمل میں حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پوپ لیو چہاردہم کے کینسر سے متعلق تشویش ناک رپورٹ سامنے آگئی
بیان میں کہا گیا کہ پوپ نے شہری شرکت کی اپنی دیرینہ روایت برقرار رکھتے ہوئے شکاگو میں ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ جمع کرایا ہے۔ دنیا بھر کے تقریباً 1.4 ارب کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا کی جانب سے کسی سیاسی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کا یہ پہلا معلوم واقعہ ہے۔
ویٹیکن کے مطابق پوپ لیو چہاردہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ شہریوں کو جمہوری عمل میں حصہ لینے کا نہ صرف حق حاصل ہے بلکہ یہ ان کا فرض بھی ہے۔
پوپ لیو چہاردہم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رواں سال کئی معاملات پر اختلافات بھی سامنے آئے تھے، جنہوں نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔ پوپ نے امریکا میں تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائیوں اور ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کی تھی، جس پر صدر ٹرمپ نے انہیں جرائم کے معاملے میں کمزور اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے ناقص قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پوپ لیو چہاردہم اسپتال سے گھر منتقل، خیر خواہوں نے تالیوں اور نعروں سے استقبال کیا
اس کے جواب میں پوپ لیو چہاردہم نے کہا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
امریکا میں وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو شیڈول ہیں، جنہیں ملکی سیاست کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔
پوپ لیو چہاردہم کا اصل نام رابرٹ فرانسس پریوووسٹ ہے۔ پوپ منتخب ہونے سے قبل انہوں نے تقریباً 2 دہائیاں پیرو میں مشنری اور بعد ازاں بشپ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کے پاس امریکا اور پیرو دونوں کی شہریت ہے۔
ویٹیکن نے مزید بتایا کہ پوپ نے پیرو میں قیام کے دوران بھی جب کبھی ووٹ ڈالنے کے اہل ہوئے، اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔











