واٹس ایپ گروپس کے ذریعے بچوں کے استحصال کی ویڈیوز فروخت کرنے کا انکشاف، 2 ملزمان گرفتار

ہفتہ 31 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی نے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی ویڈیوز اور تصاویر رکھنے، منتقل کرنے اور رقم کے عوض فروخت کرنے کے الزام میں 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ایجنسی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں جازل حسین اور عارفین شامل ہیں۔ جازل حسین بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد واٹس ایپ گروپس اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے رقم کے عوض فروخت کرتا تھا، جبکہ عارفین پر کم عمر بچوں اور بچیوں کی ایسی تصاویر حاصل کرنے، محفوظ رکھنے اور آگے منتقل کرنے کا الزام ہے۔

دونوں ملزمان کے قبضے سے ڈیجیٹل آلات اور شواہد تحویل میں لے لیے گئے ہیں، ان کے خلاف 2 مقدمات درج کرکے قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ جازل حسین کے متعلقہ اکاؤنٹس بھی بلاک کردیے گئے ہیں۔

طارق نواز کے مطابق ڈارک ویب اور ریڈ روم کے ذریعے ایک بچی کے استحصال سے متعلق کیس میں اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں، جبکہ ملکی اور غیر ملکی متاثرین سے متعلق تفصیلات متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شیئر کردی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ این سی سی آئی اے کو موصول ہونے والی مجموعی شکایات میں تقریباً 25 فیصد خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے، شناخت کی چوری، جعلی پروفائلز اور بلیک میلنگ سے متعلق ہوتی ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران خواتین کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کے مقدمات میں 18 سے زائد ملزمان گرفتار کیے گئے اور انہیں عدالتوں سے سزائیں بھی دلوائی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 15 لاکھ بچوں کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف

ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کہا کہ ایجنسی جائز آئی ٹی کاروبار کے تحفظ کے لیے جعلی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔ ان کے مطابق ایک بڑے کیس میں 15 غیر ملکی اور 22 پاکستانی ملزمان کو عدالت سے سزائیں دلوائی گئی ہیں۔ نوجوانوں کو ایسے فراڈ نیٹ ورکس سے دور رکھنے کے لیے آئی بی اے، زیبسٹ اور دیگر تعلیمی اداروں میں آگاہی سیشنز منعقد کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع این سی سی آئی اے کو دیں۔

طارق نواز نے مزید بتایا کہ کراچی کے مختلف علاقوں سے سیاسی شخصیات اور سرکاری افسران کے نام پر جعلی اکاؤنٹس اور واٹس ایپ استعمال کرکے فراڈ کرنے والے ملزمان بھی گرفتار کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایجنسی شہریوں کے موبائل فون یا ذاتی ڈیٹا تک بلااجازت رسائی نہیں کرتی اور صرف رپورٹ ہونے والے جرائم پر قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اہلکاروں کے اختیارات کے ناجائز استعمال کی روک تھام کے لیے ایجنسی میں اندرونی احتساب کا نظام بھی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

17 سال بعد بھی بچوں کا ٹرسٹ خالی کیوں؟ پیرس جیکسن عدالت پہنچ گئیں

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا