نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی نے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی ویڈیوز اور تصاویر رکھنے، منتقل کرنے اور رقم کے عوض فروخت کرنے کے الزام میں 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ایجنسی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں جازل حسین اور عارفین شامل ہیں۔ جازل حسین بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد واٹس ایپ گروپس اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے رقم کے عوض فروخت کرتا تھا، جبکہ عارفین پر کم عمر بچوں اور بچیوں کی ایسی تصاویر حاصل کرنے، محفوظ رکھنے اور آگے منتقل کرنے کا الزام ہے۔
دونوں ملزمان کے قبضے سے ڈیجیٹل آلات اور شواہد تحویل میں لے لیے گئے ہیں، ان کے خلاف 2 مقدمات درج کرکے قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ جازل حسین کے متعلقہ اکاؤنٹس بھی بلاک کردیے گئے ہیں۔
طارق نواز کے مطابق ڈارک ویب اور ریڈ روم کے ذریعے ایک بچی کے استحصال سے متعلق کیس میں اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں، جبکہ ملکی اور غیر ملکی متاثرین سے متعلق تفصیلات متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شیئر کردی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ این سی سی آئی اے کو موصول ہونے والی مجموعی شکایات میں تقریباً 25 فیصد خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے، شناخت کی چوری، جعلی پروفائلز اور بلیک میلنگ سے متعلق ہوتی ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران خواتین کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کے مقدمات میں 18 سے زائد ملزمان گرفتار کیے گئے اور انہیں عدالتوں سے سزائیں بھی دلوائی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 15 لاکھ بچوں کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف
ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کہا کہ ایجنسی جائز آئی ٹی کاروبار کے تحفظ کے لیے جعلی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔ ان کے مطابق ایک بڑے کیس میں 15 غیر ملکی اور 22 پاکستانی ملزمان کو عدالت سے سزائیں دلوائی گئی ہیں۔ نوجوانوں کو ایسے فراڈ نیٹ ورکس سے دور رکھنے کے لیے آئی بی اے، زیبسٹ اور دیگر تعلیمی اداروں میں آگاہی سیشنز منعقد کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع این سی سی آئی اے کو دیں۔
طارق نواز نے مزید بتایا کہ کراچی کے مختلف علاقوں سے سیاسی شخصیات اور سرکاری افسران کے نام پر جعلی اکاؤنٹس اور واٹس ایپ استعمال کرکے فراڈ کرنے والے ملزمان بھی گرفتار کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایجنسی شہریوں کے موبائل فون یا ذاتی ڈیٹا تک بلااجازت رسائی نہیں کرتی اور صرف رپورٹ ہونے والے جرائم پر قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اہلکاروں کے اختیارات کے ناجائز استعمال کی روک تھام کے لیے ایجنسی میں اندرونی احتساب کا نظام بھی موجود ہے۔











