پاکستان میں 15 لاکھ بچوں کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف

بدھ 14 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً 15 لاکھ بچوں کو ایک سال کے دوران ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اقوام متحدہ نے مصنوعی ذہانت اور عالمی بحرانوں کے باعث بچوں کو لاحق خطرات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی بچوں کے خلاف تشدد سے متعلق خصوصی نمائندہ نجت معلیٰ مجید نے پیر کو جنرل اسمبلی میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کرتے ہوئے حکومتوں پر زور دیا کہ بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی لاکھوں صارفین والا آن لائن پلیٹ فارم کیسے بند کروایا گیا؟

نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنازعات، قدرتی آفات اور موسمیاتی بحران کے باعث تقریباً ساڑھے 4 کروڑ بچے بے گھر ہو چکے ہیں۔

ان کے مطابق مصنوعی ذہانت بچوں کے جنسی استحصال، سائبر بُلنگ، جعلی تصاویر اور جرائم میں بچوں کی بھرتی جیسے نئے خطرات پیدا کر رہی ہے۔

یونیسیف، ای سی پی اے ٹی انٹرنیشنل اور انٹرپول کی ستمبر 2026 میں شائع ہونے والی تحقیق ’ڈسرپٹنگ ہارم اِن پاکستان‘ کے مطابق، ملک میں 12 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً ہر 16 میں سے ایک انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچے کو ایک سال کے دوران آن لائن جنسی استحصال یا بدسلوکی کی کم از کم ایک صورت کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ میں ناپسندیدہ جنسی تصاویر یا گفتگو، نجی تصاویر کا مطالبہ، بچوں کی تصاویر رضامندی کے بغیر شیئر کرنے اور جنسی دھمکیوں یا بلیک میلنگ کو بدسلوکی کی مختلف صورتوں میں شامل کیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق 85 فیصد رپورٹ شدہ واقعات میں مبینہ طور پر ملوث افراد متاثرہ بچوں کے پہلے سے شناسا تھے، جبکہ 44 فیصد واقعات سوشل میڈیا سے متعلق تھے۔

مزید پڑھیں: بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر و ویڈیو کا کاروبار، ’ایکس‘ کیسے استعمال ہو رہا ہے؟

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متاثرہ بچوں میں نصف سے زیادہ نے اپنا تجربہ کسی کو نہیں بتایا، جبکہ سروے میں شامل کسی بچے نے بھی پولیس، ہیلپ لائن یا سماجی کارکنوں جیسے باقاعدہ ذرائع سے شکایت درج نہیں کرائی۔

بدنامی، خوف اور خاندان کی جانب سے الزام تراشی کا خدشہ بچوں کو مدد حاصل کرنے سے روک سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غربت، بے گھری، تنازعات اور قدرتی آفات بھی بچوں کے تحفظ کو متاثر کرتے ہیں، تاہم ان عوامل اور آن لائن جنسی استحصال کے درمیان براہ راست تعلق ثابت نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ’انسانیت آپ کو چھو کر بھی نہیں گزری‘، چائلڈ ابیوز سے متعلق متنازع گفتگو کرنے پر رجب بٹ پر شدید تنقید

پاکستان کے حوالے سے تحقیق میں آن لائن بدسلوکی کی روک تھام، تفتیش اور متاثرین کی معاونت کے نظام میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بچوں کے فرانزک انٹرویوز کے لیے خصوصی تربیت یافتہ ماہرین کی لازمی تعیناتی کا قانونی تقاضا موجود نہیں، جس سے متاثرین کو دوبارہ ذہنی اذیت پہنچنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

رپورٹ میں محفوظ اور خفیہ شکایتی نظام، تربیت یافتہ تفتیشی عملے اور متاثرہ بچوں کو بلاخوف مدد فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp