پولینڈ کی آئینی عدالت پولیس کے کنٹرول میں، صدر طیارہ واپس لے کر وطن آگئے

ہفتہ 31 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی نے آئینی عدالت میں پولیس کی کارروائی اور عدالت کے سربراہ کی معطلی کے بعد اپنا دورہ سینیگال ملتوی کردیا اور طیارہ واپس وطن لے آئے۔ صدر نے سوشل میڈیا پر کہا کہ موجودہ صورت حال میں ان کی موجودگی پولینڈ میں ضروری ہے۔

فاکس نیوز کے مطابق پولیس نے دارالحکومت وارسا میں آئینی ٹریبونل کی عمارت کو اپنے کنٹرول میں لے لیا، جس کے بعد درجنوں مظاہرین عدالت کے باہر جمع ہوگئے۔ مظاہرین نے عدالت کے سربراہ بوگدان شفیچکوسکی کی معطلی کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض افراد نے اہلکاروں پر خطرناک اشیا بھی پھینکیں۔

پولینڈ میں عدلیہ کا معاملہ وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک کی یورپ نواز حکومت اور سابق حکمران جماعت قانون و انصاف پارٹی کے درمیان تنازع کا اہم سبب بنا ہوا ہے۔ ٹسک حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ عدلیہ کی آزادی بحال کرنا چاہتی ہے، جبکہ اپوزیشن اسے آئینی اداروں پر غیرقانونی قبضے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔ سابق وزیراعظم ماتیوش موراویتسکی اور سابق وزیر انصاف زیبگنیو زیوبرو نے بھی پولیس کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے عدالتی نظام میں مداخلت قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور پولینڈ کا تمام شعبوں میں تعلقات مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار

پولینڈ میں امریکی سفیر ٹام روز نے بھی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی عدالت کی خودمختاری اور حکومتی اختیارات کے استعمال پر غیرمعمولی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ معاملہ مزید بگڑنے سے روکا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp