حیدرآباد: سڑک کے درمیان کھمبے چھوڑنا ہماری اسٹریٹجی کا حصہ تھا، وزیراعلیٰ سندھ کا عجیب و غریب انکشاف

ہفتہ 31 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے حیدرآباد میں سڑک کی تعمیر کے دوران درمیان میں ہی بجلی کے کھمبے چھوڑے جانے کے متنازع معاملے پر وضاحت پیش کرتے ہوئے اسے حکومت کا ایک ’گرینڈ پلان‘ اور حکمتِ عملی کا حصہ قرار دے دیا ہے۔

کراچی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس سڑک کی تعمیر کے لیے چیف سیکرٹری سندھ نے کنٹونمنٹ بورڈ سے زمین کا حصول ممکن بنایا تھا، تاہم حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (حیسکو) کو مطلوبہ رقم جمع کروانے کے باوجود انہوں نے کھمبے ہٹانے میں پیشرفت نہیں کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے ’سڑک بن گئی، کھمبے ہٹانا بھول گئے‘، حیدرآباد میں انوکھی تعمیر پر سوالات اٹھ گئے

مراد علی شاہ نے اپنی حکمتِ عملی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ’جب وفاقی ادارے ہماری بات نہیں سن رہے تھے تو ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ پہلے سڑک تعمیر کر کے ٹریفک شروع کرا دی جائے تاکہ حیسکو پر عوامی اور میڈیا کا شدید دباؤ آئے، اور یہ سب ہماری ایک مکمل منصوبہ بندی (گرینڈ پلان) کا حصہ تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ سڑک پر ٹریفک آتے ہی عوام اور میڈیا نے اس پر آواز اٹھائی، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ’مجھے معلوم ہوا ہے کہ 100 میں سے 25 کھمبے اب ہٹائے جا چکے ہیں۔ میں میڈیا اور سوشل میڈیا کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے اس معاملے کو اٹھا کر ہماری مدد کی، کیونکہ وفاقی ادارے آسانی سے بات نہیں مانتے۔‘

یہ بھی پڑھیے حیدرآباد: نرالا طرز تعمیر، سڑک کے بیچوں بیچ بجلی کی کھمبوں کی سوشل میڈیا پر دھوم

وزیراعلیٰ سندھ نے امید ظاہر کی کہ سڑک کا کام مکمل طور پر پایہ تکمیل تک پہنچنے کے بعد حیدرآباد کے شہریوں کو آمدورفت میں بے پناہ سہولت میسر آئے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp