کوہاٹ کے رہائشی نورالٰہی نے الزام عائد کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے مدرسے کے بچوں کی رہائش کے لیے ان سے گھر کرائے پر لیا گیا، تاہم اب مبینہ طور پر اس پر قبضہ کرلیا گیا ہے اور انہیں اپنے ہی گھر میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔
کوہاٹ کے رہائشی نوراللہ کا سنگین الزام: "مولانا فضل الرحمٰن کے مدرسے کے بچوں کے نام پر گھر کرائے پر لیا گیا، 8 ماہ سے کرایہ بند ہے اور اپنے ہی گھر میں داخلے سے روکا جا رہا ہے۔" شہری کی حکومت اور گورنر KP سے انصاف اور مکان واپس دلانے کی اپیل! pic.twitter.com/eRZs1ttuLb
— Tayyab Gondal Official (@TayyabGondal_) October 31, 2026
نورالٰہی کے مطابق انہوں نے قاری شیر زمان کے کہنے پر اپنا گھر مدرسے کے بچوں کی رہائش کے لیے کرائے پر دیا تھا۔ ابتدا میں انہیں 2 ماہ کا کرایہ ادا کیا گیا، تاہم 8 ماہ گزرنے کے باوجود گزشتہ 6 ماہ کا کرایہ نہیں دیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اب انہیں گھر کے قریب بھی نہیں آنے دیا جا رہا اور وہاں جانے سے منع کیا جاتا ہے۔ نورالٰہی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پولیس سے رجوع کرنے پر انہیں ہی حراست میں لے لیا گیا اور رہائی کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ کرنا پڑے۔
یہ بھی پڑھیں:خواجہ سرا کا کامران مرتضیٰ کے بیان پر اظہارِ برہمی، نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر معافی کا مطالبہ
نورالٰہی نے حکومتِ پاکستان اور گورنر خیبر پختونخوا سے اپیل کی ہے کہ ان کی شکایت کا نوٹس لیا جائے، انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور ان کا گھر واپس دلایا جائے۔










