امریکا میں نیویارک سٹی میراتھن کے دوران 24 سالہ سابق کالج ایتھلیٹ ریچل اچانک طبیعت بگڑنے کے باعث انتقال کر گئیں۔ وہ اپنی پہلی میراتھن میں حصہ لے رہی تھیں اور فنش لائن سے تقریباً دو میل قبل سینٹرل پارک میں دوڑتے ہوئے اچانک گر پڑیں۔
واقعے کے فوری بعد وہاں موجود افراد نے انہیں طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ایک سوشل ورکر نے ان کی نبض چیک کی تاہم نبض محسوس نہ ہونے پر تماشائیوں میں موجود دو ڈاکٹروں نے باری باری سی پی آر (CPR) شروع کر دی۔ بعد ازاں میراتھن کی طبی ٹیم ڈیفبریلیٹر کے ساتھ موقع پر پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: آئرلینڈ کی یورپی ایتھلیٹکس چیمپیئن کیرا میگیان 34 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں
ریچل کو فوری طور پر میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے چھ گھنٹے تک ان کی جان بچانے کی کوشش کی تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ ان کے والد اسٹیو آپا کے مطابق ڈاکٹروں نے رات 9 بج کر 40 منٹ پر ان کی موت کی تصدیق کی۔
والد کے مطابق ڈاکٹروں نے موت کی وجہ رابڈومائیولائسز (Rhabdomyolysis) بتائی جو ایک نایاب طبی کیفیت ہے۔ اس بیماری میں پٹھوں کے ٹشوز تیزی سے ٹوٹنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں نقصان دہ مادے خون میں شامل ہو کر جسم کے اہم اعضا کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سائنس فکشن ’اسٹار ٹریک‘ کے نامور امریکی اداکار والٹر کینیگ انتقال کر گئے
ریچل کے والد نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی مکمل صحت مند اور بہترین جسمانی حالت میں تھی اس لیے یہ سانحہ ان کے لیے ناقابلِ یقین ہے۔
ریس کے دوران ریچل اپنے والد کو موبائل فون پر پیغامات بھی بھیجتی رہی تھیں۔ میل 23 پر ان کا آخری پیغام موصول ہوا جس میں انہوں نے لکھا ’آخری مرحلہ‘۔
یہ بھی پڑھیں: بگز بنی اور ڈیفی ڈک کی آواز دینے والے معروف وائس آرٹسٹ انتقال کرگئے
ریچل کی والدہ مشیل بھی نیویارک میں موجود تھیں اور انہوں نے میل 14 پر اپنی بیٹی کی مسکراتے ہوئے ویڈیو بنائی تھی۔ بعد ازاں جب وہ سینٹرل پارک پہنچنے کی کوشش کر رہی تھیں تو انہیں میراتھن ٹریکنگ ایپ کے ذریعے معلوم ہوا کہ ان کی بیٹی کی لوکیشن میل 24 پر رک گئی ہے۔ وہ جائے وقوعہ پر اس وقت پہنچیں جب ریچل کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا۔
ریچل آپا بکنیل یونیورسٹی کی گریجویٹ تھیں اور انہوں نے اپنے مرحوم دادا کی یاد میں میراتھن میں شرکت کی تھی۔ ان کے دادا کا انتقال 2022 میں پارکنسنز کی بیماری کے باعث ہوا تھا۔ ریچل اس ریس کے ذریعے پارکنسنز فاؤنڈیشن کے چیمپیئنز پروگرام کے لیے فنڈز جمع کر رہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’یہ شیطان کی موت ہے‘، نانا پاٹیکر کے انتقال پر تنوشری دتہ کا چونکا دینے والا ردعمل
وہ ایک الیکٹریکل کمپونینٹس بنانے والی کمپنی میں بطور پروڈکٹ مینیجر خدمات انجام دے رہی تھیں جبکہ چارلسٹن سدرن یونیورسٹی سے ایم بی اے کی تعلیم بھی حاصل کر رہی تھیں۔
نیویارک روڈ رنرز کے مطابق 2024 کے بعد نیویارک سٹی میراتھن کے دوران کسی شریک کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔











