اینکر پرسن اقرار الحسن کی ضمانت منظور، عدالت نے 2 لاکھ روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دے دیا

ہفتہ 31 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں قید معروف اینکر پرسن اقرار الحسن کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی ہے۔ اقرار الحسن کے وکیل ایڈووکیٹ احمد مسعود نے ڈان کو تصدیق کی کہ شرقی جوڈیشل مجسٹریٹ گلریز میمن کی عدالت نے 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کی ہے، کیونکہ ایجنسی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے مزید تفتیش کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

معروف اینکر پرسن کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کراچی میں درج ایک مقدمے کے تحت گرفتار کیا تھا، جس میں ان پر اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ریاست مخالف، جھوٹا اور بدنام کرنے پر مبنی مواد پھیلانے کا الزام ہے۔ ان کے خلاف الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون (پیکا) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے معروف اینکر اقرار الحسن گرفتار، اہلیہ نے تصدیق کردی

ایڈووکیٹ احمد مسعود کے مطابق جوڈیشل کسٹڈی میں موجود اقرار الحسن کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی گلریز میمن نے 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت فراہم کی۔ وکیل صفائی نے بتایا کہ ’کیس کا چالان عدالت میں جمع کرایا جا چکا ہے اور حکام نے ان کے الیکٹرانک آلات اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔‘

اسی اثنا میں، سماعت کے دوران این سی سی آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اقرار الحسن سے مزید کسی تفتیش کی ضرورت نہیں ہے، تاہم ادارے کو ابھی فارنزک رپورٹ کا انتظار ہے۔

اس سے قبل 22 اکتوبر کو اسی جوڈیشل مجسٹریٹ نے اقرار الحسن کی ضمانت کی درخواست رد کر دی تھی، جس کے بعد وکیلِ صفائی نے اس فیصلے کو سیشن کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

22 اکتوبر کی سماعت میں این سی سی آئی اے نے اپنی ریمانڈ رپورٹ پیش کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ تفتیش آگے بڑھی ہے لیکن اقرار الحسن کے ضبط شدہ ڈیجیٹل آلات کی فارنزک رپورٹ اور نادرا سمیت دیگر محکموں کے ریکارڈ کی روشنی میں کئی اہم پہلوؤں کا جائزہ لینا باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیے اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں 2 روز کی توسیع، بریت کی درخواست مسترد

مقامی عدالت کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ پہلی درخواستِ ضمانت میں کوئی وزن نہیں پایا گیا، اس لیے اسے خارج کیا جاتا ہے۔ تاہم سیشن کورٹ نے واضح کیا کہ چونکہ چالان عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے، اس لیے ملزم کے وکیل ٹرائل کورٹ کے سامنے دوبارہ ضمانت کی درخواست دائر کر سکتے ہیں، جس کی بنیاد پر ٹرائل کورٹ نے چالان کی پیشی کے بعد ضمانت منظور کی۔

یاد رہے کہ 19 اکتوبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے اینکر پرسن کو 26 اکتوبر تک 8 روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ اس سے قبل 17 اکتوبر کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر اقرار الحسن کو مجسٹریٹ میمن کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ اس موقع پر این سی سی آئی اے نے مزید 10 روز کی تحویل کی استدعا کی تھی، تاہم مجسٹریٹ نے وہ درخواست مسترد کرتے ہوئے ایجنسی کو صرف 2 اضافی دن کا ریمانڈ دیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp