جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے ریاست مخالف مواد کی برآمدگی سے متعلق مقدمے میں گرفتار اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں 2 روز کی توسیع کردی، جبکہ عدالت نے ملزم کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی درخواست مسترد کردی۔
ہفتے کو سماعت کے دوران اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل نے اپنی ویڈیو میں کوئی ایسی بات نہیں کی جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے قوانین کا اطلاق ہوتا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: اینکر پرسن اقرار الحسن کے خلاف سائبر کرائم کا مقدمہ، 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
اقرار الحسن نے صرف ایمرجنسی اور گورنر راج کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج سے متعلق بات کی، جس کے بارے میں وکیل کے مطابق سپریم کورٹ حکم دے چکی ہے۔
وکیل صفائی نے کہا کہ اقرار الحسن ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور انہوں نے کوئی خود ساختہ بات نہیں کی۔
🚨 Iqrar-ul-Hassan, Journalist and head of the Awam Raj Party, has been presented in court following the completion of his physical remand. The NCCIA has requested an extension of his physical remand. pic.twitter.com/YfDgvdUffh
— Wajiha Tamseel Mirza (@WajihaTamseel) October 17, 2026
ان کے مطابق ملزم کی گرفتاری کو 6 روز گزر چکے ہیں، تاہم ایف آئی آر میں گرفتاری کا وقت تک درج نہیں کیا گیا۔ گرفتاری کے گواہ بھی این سی سی آئی اے کے 3 اہلکار ہیں، کوئی آزاد گواہ موجود نہیں، جبکہ تفتیشی افسر گرفتاری کے وقت موقع پر موجود نہیں تھے۔
میاں علی اشفاق نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا موبائل فون، آئی پیڈ اور دیگر اشیا پہلے ہی این سی سی آئی اے کی تحویل میں ہیں اور ملزم سے تفتیش کے لیے درکار سوالات بھی کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مقدمے میں کوئی متاثرہ شخص یا مدعی موجود نہیں اور ان کے موکل نے اپنے مواد کی اشاعت سے انکار نہیں کیا بلکہ کہا ہے کہ یہ ان کا اپنا مواد ہے اور انہوں نے ہی اسے شائع کیا ہے۔
مزید پڑھیں: اقرار الحسن کیس: عدالت نے جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست مسترد کر دی
سماعت کے دوران عدالت نے وکیل صفائی کے دلائل پر ریمارکس دیے کہ ایک طرف ملزم کو مقدمے سے بری یا ڈسچارج کرنے کی استدعا کی جا رہی ہے اور دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ شواہد ٹرائل کے دوران سامنے لائے جائیں گے۔
دوسری جانب تفتیشی افسر نے عدالت سے اقرار الحسن کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کا موبائل فون فورینزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور مقدمے میں مزید 5 افراد کو گرفتار کرنا ہے، تفتیشی افسر کے مطابق سائبر سیکیورٹی سے متعلق شکایت پر کارروائی کی گئی۔
مزید پڑھیں: جواد احمد کے دعووں اور اقرار الحسن کی 3 شادیوں پر ابرار الحق کا طنز
این سی سی آئی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایجنسی اپنے طور پر بھی کارروائی کر سکتی ہے۔ سماعت کے دوران ملزم کی گرفتاری کے وقت کے حوالے سے بھی مختلف مؤقف سامنے آئے؛ وکیل صفائی نے گرفتاری کے وقت اور طریقۂ کار پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ ایجنسی کی جانب سے ملزم کو ساڑھے 12 بجے گرفتار کیے جانے کا مؤقف اختیار کیا گیا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جس کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں 2 روز کی توسیع کردی اور انہیں مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی درخواست مسترد کردی۔











