خیبرپختونخوا سمیت سابق قبائلی اضلاع میں 19 سالوں کے دوران قبائلی مشران یا امن کمیٹیوں کے ممبران کو نشانہ بنانے کے 148 واقعات رپورٹ ہوئے جس میں 188 افراد شہید، 62 زخمی اور اور 2 کو اغوا کیا گیا، سب سے زیادہ ضلع باجوڑ میں 37 افراد کو شہید کیا گیا اور سب سے زیادہ واقعات 2010 میں ریکارڈ ہوئے۔
غیر سرکاری سالانہ اعداد و شمار کے مطابق 2005 سے 2015 تک ان واقعات میں 128 قبائلی مشران شہید اور 51 زخمی ہوئے، جبکہ 2019 سے 2026 کے دوران 60 افراد شہید، 11 زخمی اور 2 اغوا ہوئے۔ یوں دونوں ادوار کے دستیاب مجموعی اعداد و شمار کے مطابق 188 قبائلی مشران شہید، 62 زخمی اور 2 اغوا ہوئے۔
پہلا نشانہ کون بنا؟
موجودہ تفصیلات کے مطابق 29 مئی 2005 کو جنوبی وزیرستان کے علاقے جنڈولہ میں سابق وفاقی وزیر اور سینیٹر ملک فریداللہ خان وزیر کو دیگر قبائلی مشران کے ہمراہ شہید کیا گیا۔
یہ اس ڈیٹا میں قبائلی مشران کو نشانہ بنانے کا پہلا درج شدہ واقعہ ہے۔ اس کے بعد 22 جولائی 2005 کو جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد نے متعدد قبائلی افراد کو شہید کیا، جن میں 2 اہم حکومت کی طرف جھکاؤ رکھنے والے مشران بھی شامل تھے۔
اسی سال 2 ستمبر کو لدھا کے علاقے اسپنکئی راغزئی بازار میں حکومت نواز قبائلی مشر محبوب کو فائرنگ کرکے شہید کیا گیا، جبکہ 11 نومبر کو امن کمیٹی کے فعال رکن اللہ خان کو ان کے گاؤں اوچہ خوڑہ میں نشانہ بنایا گیا۔
کون سا سال سب سے زیادہ مہلک رہا؟
2005 سے 2015 تک کے اعداد و شمار کے مطابق 2010 قبائلی مشران کے لیے سب سے مہلک سال ثابت ہوا، جس میں 39 افراد شہید ہوئے۔ 2008 میں 19 اور 2011 میں 12 مشران کو نشانہ بنایا گیا۔
2005 میں 7 عمائدین شہید ہوئے، جبکہ 2006 میں 6 اور 2007 میں 4 عمائدین کو شہید کیا گیا۔ 2008 میں 19 عمائدین شہید اور 10 زخمی ہوئے، 2009 میں 7 شہید اور 2 زخمی، 2010 میں 39 شہید اور 8 زخمی، 2011 میں 12 شہید اور 15 زخمی ہوئے۔
اسی طرح 2012 میں 10 شہید اور 2 زخمی، 2013 میں 4 شہید اور ایک زخمی، 2014 میں 11 شہید اور 9 زخمی، جبکہ 2015 میں 9 عمائدین شہید اور 4 زخمی ہوئے۔ اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 100 واقعات میں 128 عمائدین شہید اور 51 زخمی ہوئے۔
2010: ایک سال میں 39 قبائلی مشران شہید
2010 میں قبائلی مشران پر حملوں کی شدت سب سے زیادہ رہی۔ جنوری میں باجوڑ کی تحصیل سالارزئی اور ماموند، مہمند اور دیگر علاقوں میں مشران کو نشانہ بنایا گیا۔
مارچ میں اورکزئی اور کرم میں اغوا کیے گئے مشران کی لاشیں ملیں، بعض کی لاشوں کے سر قلم کیے گئے تھے۔ اسی سال اپریل میں باجوڑ کے علاقے نوگئی میں اغوا کیے گئے قبائلی مشر کی لاش بھی برآمد ہوئی۔ اگست میں کرم کے علاقے خوماس میں قبائلی مشران کے ایک اجلاس پر بم دھماکے میں 7 افراد قتل اور 7 زخمی ہوئے۔ اکتوبر اور نومبر میں مہمند اور کرم میں بھی حکومت نواز امن کمیٹیوں سے وابستہ مشران کو نشانہ بنایا گیا۔
2019 سے 2026: 8 سال میں 48 حملے
2019 کے بعد دستیاب اعداد و شمار کے مطابق قبائلی مشران پر حملوں کے مزید 48 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں 60 افراد شہید، 11 زخمی اور 2 اغوا ہوئے۔
2019 میں 2 مشران شہید ہوئے، جبکہ 2020 میں 10، 2021 میں ایک، 2022 میں ایک اور 2023 میں 4 مشران شہید ہوئے۔ اسی طرح 2024 میں 13 مشران شہید اور 5 زخمی ہوئے، جبکہ 2025 میں 17 شہید اور ایک زخمی ہوا۔ رواں سال اب تک 12 مشران شہید، 5 زخمی اور ایک اغوا ہو چکا ہے۔
کن علاقوں میں قبائلی مشران کو نشانہ بنایا گیا؟
2005 سے 2015 تک پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات میں سابق قبائلی ایجنسیوں کے علاوہ خیبرپختونخوا کے بندوبستی اضلاع بھی شامل ہیں۔ ان علاقوں میں جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، پشاور، سوات، شانگلہ، ٹانک، ہنگو، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں۔
اس عرصے کے دوران سب سے زیادہ 37 عمائدین ضلع باجوڑ میں شہید ہوئے، جبکہ کرم میں 20 اور جنوبی وزیرستان، اورکزئی اور خیبر میں 13، 13 عمائدین کو نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔









