اسرائیل میں حالیہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج پر سیاسی کشمکش کے دوران بعض اسرائیلی سیاست دانوں نے قطر پر عرب جماعتوں کو انتخابی مہم کے لیے رقم فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم دوحہ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ بعض اسرائیلی سیاست دانوں اور ان سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے ایک بار پھر قطر کو اسرائیل کے اندرونی سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے کے لیے گمراہ کن مہم شروع کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر نے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے یا کسی سرگرمی کی مالی معاونت میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
Israel’s anti-Qatar campaign bleeds into elections https://t.co/YnfK0eEG5a via @AJEnglish
— Minister Peacefulpoet🇺🇸 (@MinPeacefulPoet) October 29, 2026
الانصاری نے ان الزامات کو مضحکہ خیز اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض اسرائیلی حلقے کبھی قطر پر نیتن یاہو کو خریدنے، کبھی اسرائیلی بائیں بازو اور اب عرب ووٹروں کو متاثر کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی سیاست دان اپنی سیاسی ناکامیوں کا ملبہ قطر پر ڈالنے کے بجائے اپنے ووٹروں اور عوامی مسائل پر توجہ دیں۔
انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کا سیاسی اتحاد پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا، جبکہ 2 عرب جماعتوں نے ریکارڈ نشستیں حاصل کیں۔ تاہم اسرائیل کے مرکزی انتخابی کمیشن کے قائم مقام سربراہ ڈین لیوائن نے غیر ملکی مداخلت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات قانون کے مطابق ہوئے اور پولنگ کے عمل کی شفافیت یقینی بنائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:نتن یاہو کا عرب جماعتوں پر دھاندلی کا الزام مسترد، اسرائیلی پولیس نے ثبوت نہ ہونے کی تصدیق کر دی
قطر نے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے اندرونی سیاسی و انتخابی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور خطے میں ثالثی و سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔











