اسرائیلی انتخابات میں قطر پر مداخلت کے الزامات، دوحہ نے ’گمراہ کن مہم‘ قرار دے دیا

اتوار 1 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

اسرائیل میں حالیہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج پر سیاسی کشمکش کے دوران بعض اسرائیلی سیاست دانوں نے قطر پر عرب جماعتوں کو انتخابی مہم کے لیے رقم فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم دوحہ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ بعض اسرائیلی سیاست دانوں اور ان سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے ایک بار پھر قطر کو اسرائیل کے اندرونی سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے کے لیے گمراہ کن مہم شروع کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر نے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے یا کسی سرگرمی کی مالی معاونت میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

الانصاری نے ان الزامات کو مضحکہ خیز اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض اسرائیلی حلقے کبھی قطر پر نیتن یاہو کو خریدنے، کبھی اسرائیلی بائیں بازو اور اب عرب ووٹروں کو متاثر کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی سیاست دان اپنی سیاسی ناکامیوں کا ملبہ قطر پر ڈالنے کے بجائے اپنے ووٹروں اور عوامی مسائل پر توجہ دیں۔

انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کا سیاسی اتحاد پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا، جبکہ 2 عرب جماعتوں نے ریکارڈ نشستیں حاصل کیں۔ تاہم اسرائیل کے مرکزی انتخابی کمیشن کے قائم مقام سربراہ ڈین لیوائن نے غیر ملکی مداخلت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات قانون کے مطابق ہوئے اور پولنگ کے عمل کی شفافیت یقینی بنائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:نتن یاہو کا عرب جماعتوں پر دھاندلی کا الزام مسترد، اسرائیلی پولیس نے ثبوت نہ ہونے کی تصدیق کر دی

قطر نے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے اندرونی سیاسی و انتخابی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور خطے میں ثالثی و سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp