دنیا کی بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس نے سائبر حملے میں چوری ہونے والے ڈیجیٹل اثاثوں میں سے 90 فیصد کی جگہ نئے ٹوکن خرید کر پوری کردی ہے۔ کمپنی کے مطابق صارفین کو اس واقعے کے باعث مالی نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا، جبکہ باقی 10 فیصد اثاثوں کی خریداری بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا اور خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 30 اکتوبر کو ہونے والے سائبر حملے میں تقریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے متاثر ہوئے تھے۔ بائنانس کے شریک چیف ایگزیکٹو رچرڈ ٹینگ نے بتایا کہ کمپنی نے چوری شدہ اثاثوں کا 90 فیصد دوبارہ حاصل کرنے کے لیے نئے ٹوکن خرید لیے ہیں۔ باقی 10 فیصد ایسے ٹوکنز پر مشتمل ہے جن کی مارکیٹ میں دستیابی اور خرید و فروخت نسبتاً محدود ہے، اس لیے انہیں حاصل کرنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
🚨 BINANCE RECOVERS 90% OF STOLEN FUNDS FOLLOWING $6.3 BILLION CYBERATTACK
OCTOBER 31, 2026 | 17:00
A major development following one of the largest crypto heists in history.
Binance has reportedly recovered 90% of the $6.3 BILLION stolen during Thursday’s cyberattack.
Here’s… pic.twitter.com/b4cLsgHwAv
— DARKMATTER (@darkmatrx) October 31, 2026
کمپنی نے نقصان پورا کرنے کے لیے اپنے کارپوریٹ خزانے، فیوچرز انشورنس فنڈ اور صارفین کے تحفظ کے لیے قائم سیف فنڈ کے وسائل استعمال کیے ہیں۔ بائنانس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ باقی ماندہ نقصان بھی صارفین پر منتقل نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے سائبر حملے کا ذمہ دار شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ گروپ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ کو قرار دیا ہے۔ ادارے نے دیگر کرپٹو ایکسچینجز اور متعلقہ کمپنیوں کو چوری شدہ اثاثوں سے منسلک لین دین روکنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
حملے کے بعد بائنانس نے صارفین کی رقوم کی منتقلی عارضی طور پر روک دی تھی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ یکم نومبر سے رقم نکلوانے کی سہولت بحال کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔










