پاکستان کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم نے قومی کرکٹر بابر اعظم کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان کی کرکٹ برادری کے بعض حلقوں، شائقین اور سابق کرکٹرز کی جانب سے ان پر کی جانے والی شدید تنقید پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
عماد وسیم نے زور دیا کہ بابر اعظم کی پاکستان کرکٹ کے لیے خدمات کو خراب فارم کے عارضی دور کی وجہ سے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے بابر اعظم کو سپر اسٹار اور پاکستان کی جانب سے اب تک سامنے آنے والے بہترین ون ڈے کھلاڑیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے ان کی مستقل مزاجی، کامیابیوں اور تقریباً ایک دہائی پر مشتمل اعلیٰ سطح کی کارکردگی کو اجاگر کیا۔
عماد وسیم نے تسلیم کیا کہ بابر اعظم کی حالیہ کارکردگی اور فارم پر سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرکٹ تک محدود رہنی چاہیے اور اسے ذاتی حملوں میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کرکٹ کا حقیقی تجزیہ کسی کھلاڑی کی تکنیکی خامیوں اور بہتری کے پہلوؤں پر بات کرنے کا نام ہے، نہ کہ تشہیر یا ذاتی مقاصد کے لیے کسی کھلاڑی کو نشانہ بنانا۔
عماد وسیم نے مشکل وقت میں پاکستان کے نامور کھلاڑیوں کی حمایت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کرکٹ کے کلچر کو چاہیے کہ وہ اپنے بہترین کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور قدر کرے، نہ کہ مشکل دور سے گزرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنائے۔
عماد وسیم کے ان بیانات کے بعد بابر اعظم کی موجودہ فارم، کارکردگی اور کرکٹ برادری کی جانب سے ان کے ساتھ کیے جانے والے رویے سے متعلق بحث ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی ہے۔
واضح رہے کہ سابق کپتان بابر اعظم سہ ملکی ون ڈے سیریز میں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے، اور گزشتہ روز ہونے والے فائنل میں بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے تھے، جس کے بعد انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔










