متحدہ عرب امارات کی سرکاری آئل کمپنی اور اوپن اے آئی میں شراکت داری

پیر 2 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی نے مصنوعی ذہانت کے شعبے کی معروف کمپنی اوپن اے آئی کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کر دیا ہے۔

جس کے تحت اے ڈی این او سی جدید مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم ’اوپن اے آئی فرنٹیئر‘ کو استعمال کرنے والی دنیا کی پہلی توانائی کمپنی بن جائے گی۔

اس شراکت داری کا اعلان ابوظہبی میں تیل کی صنعت سے متعلق متحدہ عرب امارات کے سب سے بڑے سالانہ ایونٹ کے موقع پر کیا گیا، جس میں اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹمین نے بھی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی کی مقبولیت میں تاریخی اضافہ، کاروباری صارفین 5 کروڑ تک پہنچ گئے

متحدہ عرب امارات مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور توانائی کے شعبے پر انحصار کم کرکے اپنی معیشت کو متنوع بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے ناکہ بندی اور تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے باعث خلیجی ممالک کو تیل کی برآمدات میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اس صورتحال نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج اس اہم سمندری راستے سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے انہیں حفاظتی حصار فراہم کر رہی ہے۔

اے ڈی این او سی کے جاری کردہ بیان کے مطابق اوپن اے آئی کے جدید ماڈلز کمپنی کو زمین کے اندر موجود تیل کے ہر بیرل کی مالیت کا تخمینہ لگانے اور اس کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دیں گے۔

مزید پڑھیں: مالی مشکلات سے تنگ ہیں؟ جانیے چیٹ جی پی ٹی کیسے آپ کی مدد کرسکتا ہے

کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو سلطان الجابر نے ابوظہبی میں منعقدہ اے ڈی آئی پی ای سی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیٹ جی پی ٹی کے آغاز کے بعد دنیا یہ سوال کرتی رہی ہے کہ توانائی مصنوعی ذہانت کے لیے کیا کر سکتی ہے، تاہم اب دونوں ادارے مل کر یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ مصنوعی ذہانت توانائی کے شعبے کے لیے کیا کچھ کر سکتی ہے۔

معاہدے کے تحت اے ڈی این او سی اور اوپن اے آئی متحدہ عرب امارات کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی جی 42 کے ساتھ بھی مل کر کام کریں گے۔

اس منصوبے میں اوپن اے آئی کے جدید تجزیاتی ماڈلز کو تیل کے ہزاروں کنوؤں، زیرزمین ذخائر اور پیداواری تنصیبات سے حاصل ہونے والے کئی دہائیوں کے ڈیٹا کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔

اس ٹیکنالوجی کے ذریعے سرمایہ کاری، اخراجات، تجارتی امکانات اور پیداواری منصوبہ بندی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں: کیا چیٹ بوٹ مستقبل میں انسان کا ’ایک مخلص اور باشعور دوست‘ ہوگا؟

کمپنی کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار نظام تیل کی طلب، رسد، قیمتوں اور منافع کا مسلسل جائزہ لیں گے اور ممکنہ تبدیلیوں کے اثرات کا پیشگی اندازہ لگا کر کاروباری اور پیداواری فیصلوں کو زیادہ مؤثر بنائیں گے۔ تاہم اس شراکت داری کی مالی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

متحدہ عرب امارات 2017 سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اسی سال دنیا کا پہلا وزیر برائے مصنوعی ذہانت مقرر کرنے کے ساتھ قومی مصنوعی ذہانت حکمت عملی بھی متعارف کرائی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp