اسلام آباد میں چینی صدر شی جن پنگ کی جماعتی تنظیم سازی اور افکار پر سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا، جس سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چین کی کمیونسٹ پارٹی کے وزیر لیو ہائی شنگ اور سینیٹر شیری رحمان نے خطاب کیا۔ مقررین نے پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات، باہمی تعاون اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے نظام حکمرانی پر روشنی ڈالی۔
مزید پڑھیں:چین: کمیونسٹ پارٹی نے صدر شی جن پنگ کے سابق سیکرٹری سمیت 33 اعلیٰ عہدیداروں کو برطرف کر دیا
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دورہ پاکستان پر چینی وزیر لیو ہائی شنگ کا خیرمقدم کرتے ہیں، چینی صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت کو سراہتے ہیں۔ صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین نے عوام دوست حکمرانی کے ذریعے قومی احیا کا سفر طے کیا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں، دونوں ممالک کی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری باہمی اعتماد، احترام اور تعاون پر قائم ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی اپنی تاسیس کی 105ویں سالگرہ منا رہی ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ چین کے مؤثر اقدامات نے کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا، جو عالمی سطح پر ایک تاریخی کامیابی ہے۔ پاکستان اور چین نے مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے پانچ نکاتی امن اقدام کا آغاز کیا ہے۔ چین پاکستان سیاسی جماعتوں کا فورم اور سی پیک سیاسی جماعتوں کا مشترکہ مشاورتی طریقہ کار دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے اہم پلیٹ فارم ہیں۔
Live: China-Pakistan seminar on governance https://t.co/UJLWCmIfGE
— Pakistan TV Digital (@PakistanTVcom) November 2, 2026
چینی وزیر لیو ہائی شنگ نے کہا کہ آج کے چین کو سمجھنے کے لیے چینی کمیونسٹ پارٹی کو سمجھنا ضروری ہے۔ چین کے نظام حکمرانی کے پیچھے ایک مضبوط سیاسی جماعت موجود ہے، شی جن پنگ کے جماعتی تنظیم سازی کے نظریے کو سمجھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے نئے تزویراتی تصورات، نئی سوچ اور نئی حکمت عملیوں کا ایک سلسلہ پیش کیا۔ ان کے جماعتی تنظیم سازی کے نظریے کی نمایاں خصوصیت اس کی نظریاتی بنیاد ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی تاریخ 105 سال پر محیط ہے اور یہ پارٹی ایک نئے دور سے گزر رہی ہے۔
لیو ہائی شنگ کے مطابق حکمران جماعت کا نظام جتنا زیادہ مؤثر ہوگا، معاشی اور سماجی ترقی کا تحفظ بھی اتنا ہی بہتر ہوگا۔ حکمران جماعت کا نظام اس کے قیام سے لے کر قومی حکمرانی اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی تک پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کی مختلف سیاسی جماعتوں کا عروج و زوال بھی اسی حقیقت کی تصدیق کرتا ہے۔
چینی وزیر نے کہا کہ چین 5 ہزار سالہ تہذیبی تاریخ رکھنے والا ملک ہے، اس طویل تاریخ میں بہترین روایتی ثقافتوں اور تہذیبوں نے جنم لیا۔ چین کے لیے ضروری ہے کہ وہ نسل در نسل ترقی اور پیشرفت کا سفر جاری رکھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 75 سال مکمل ہو چکے ہیں، دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ دونوں ملکوں نے سیاسی اعتماد اور باہمی مفادات پر مبنی تعلقات قائم کیے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں طویل عرصے سے پاک چین دوستی کی حمایت کرتی رہی ہیں اور یہ تعلقات دونوں ممالک کے لیے استحکام اور حمایت کا اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔
مزید پڑھیں:پاک چین تعلقات کے 75 سال، صدر زرداری کا صدر شی جن پنگ کو خط، دوستی میں مزید پیشرفت کا اعادہ
سینیٹر شیری رحمان نے سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی مضبوط تعلقات قائم ہیں۔ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کی مختلف شعبوں میں نمایاں ترقی قابل تقلید ہے۔ شی جن پنگ کی سوچ عوامی فلاح، بہتر طرز حکمرانی اور کرپشن کے خاتمے پر زور دیتی ہے۔ پاکستان اور چین آئرن برادرز ہیں اور 75 سالہ دوستی مزید مضبوط ہو رہی ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی خود احتسابی اور اصلاحات دنیا کے لیے مثال ہیں۔










