چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے تاریخی فیصلے میں مرکزی ملٹری کمیٹی کے سابق وائس چیئرمین ژانگ یو شیا اور صدر شی جن پنگ کے سابق سیکرٹری ژونگ شاؤ جون سمیت 33 اعلیٰ سطح کے ملٹری اور حکومتی حکام کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔
چینی کمیونسٹ پارٹی نے 33 اعلیٰ عہدیداروں کی برطرفی کی تصدیق کر دی ہے، جن میں مرکزی ملٹری کمیٹی (CMC) کے سابق وائس چیئرمین ژانگ یو شیا اور سی ایم سی جنرل آفس کے سابق سربراہ و صدر شی جن پنگ کے سابق سیکرٹری ژونگ شاؤ جون شامل ہیں۔
ملک کی اصلاحات اور کھلے پن کے دور کے بعد مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں منظور کی جانے والی یہ اب تک کی سب سے بڑی برطرفی مہم ہے۔ اجلاس میں شرکاء کی حاضری بھی ماؤ زی تنگ کے دور کے بعد کم ترین سطح پر گر گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگلے سال ہونے والی 21 ویں نیشنل کانگریس سے قبل، جس میں اس بات کا فیصلہ ہونا ہے کہ شی جن پنگ چوتھی بار اقتدار سنبھالیں گے یا نہیں، عسکری قیادت اور شی جن پنگ کے دیرینہ ساتھیوں تک پھیلنے والی اس برطرفی سے چینی اقتدار کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ‘ژنہوا’ کی 29 تاریخ کی رپورٹ کے مطابق، بیجنگ میں اختتام پذیر ہونے والے 20 ویں مرکزی کمیٹی کے پانچویں اجلاس کے دوران پارٹی نے مجموعی طور پر 33 افراد کی برطرفی کو حتمی شکل دی، جن میں سے 17 کا تعلق پارٹی و حکومت سے جبکہ 16 کا تعلق فوج سے ہے۔ یہ تعداد گزشتہ سال اکتوبر میں چوتھے اجلاس کے دوران کی گئی 14 برطرفیوں کے پچھلے ریکارڈ سے دگنا سے بھی زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے شی جن پنگ کے اقتدار میں مزید 5 سال کی توسیع کا امکان
اس کارروائی میں ژونگ شاؤ جون کی برطرفی پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ ژونگ نے 2002ء کے آخر میں شی جن پنگ کے ژجیانگ پارٹی چیف بننے کے وقت سے ہی ان کے سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں اور شنگھائی اور بیجنگ تک ان کے ساتھ رہے۔ بعد ازاں 2013ء میں وہ فوج میں منتقل ہو گئے اور سی ایم سی جنرل آفس کے سربراہ کے طور پر کام کیا۔ اگرچہ اگست میں ان سے نیشنل پیپلز کانگریس (NPC) کے نمائندے کا عہدہ واپس لے لیا گیا تھا، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ چینی حکام نے سرکاری طور پر تصدیق کی ہے کہ انہوں نے سنگین ڈسپلن اور قانونی خلاف ورزیاں کی تھیں۔
اس مہم کے تحت ملٹری آپریشنز اور سیاسی امور کی نگرانی کرنے والی اہم عسکری شخصیات کو بھی برطرف کر دیا گیا ہے۔ ان میں مرکزی ملٹری کمیٹی کے سابق وائس چیئرمین ژانگ یو شیا، سی ایم سی جوائنٹ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے سابق چیف آف اسٹاف لیو ژین لی، سی ایم سی پولیٹیکل اینڈ لیگل افیئرز کمیشن کے سیکرٹری وانگ رین ہوا، ایسٹرن تھیٹر کمانڈ کے سابق پولیٹیکل کمشنر لیو چنگ سونگ، ناردرن تھیٹر کمانڈ کے سابق کمانڈر ہوانگ منگ، اور پی ایل اے (PLA) آرمی کے سابق کمانڈر لی چیاؤمنگ شامل ہیں۔
پارٹی اور حکومتی حلقوں میں جن نمایاں شخصیات کو برطرف کیا گیا ہے ان میں سی پی سی مرکزی کمیٹی کے انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کے سابق سربراہ لیو جیان چاؤ شامل ہیں، جنہیں کسی زمانے میں ملک کا اگلا وزیر خارجہ تصور کیا جا رہا تھا۔ ان کے علاوہ سنکیانگ ایغور خودمختار علاقے کے سابق پارٹی چیف ما سنگ روئی، گوانگسی ژوانگ خودمختار علاقے کے سابق چیئرمین لان تیان لی، اندرونی منگولیا خود مختار علاقے کی سابق چیئرپرسن وانگ لی شیا، صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سابق وزیر جن ژوانگ لونگ، اور چائنا سیکیورٹیز ریگولیٹری کمیشن کے سابق چیئرمین ای ہوئی مان شامل ہیں۔ لیو جیان چاؤ گزشتہ سال اگست میں ان کے خلاف تحقیقات کی خبریں سامنے آنے کے بعد منظر عام سے غائب ہو گئے تھے، تاہم چینی حکام نے اس سے قبل ان کی کسی بدعنوانی یا بدسلوکی کی تصدیق نہیں کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے چین کے سابق وزیر انصاف کو رشوت لینے پر عمر قید کی سزا، جائیداد بھی ضبط
مرکزی کمیٹی کے ارکان کی ترقیاں دیتے وقت کچھ غیر معمولی اور غیر روایتی فیصلے بھی دیکھنے میں آئے۔ پارٹی نے 10 متبادل ارکان کو مرکزی کمیٹی کے مکمل ارکان کے درجے پر ترقی دی، لیکن اس کے لیے پہلے سے طے شدہ سینئر ترین 5 متبادل ارکان کو نظر انداز کر دیا گیا۔ چونکہ ترقیاں عام طور پر نیشنل کانگریس کے ووٹوں کی درجہ بندی کے مطابق دی جاتی ہیں، اس لیے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ان پانچوں امیدواروں کو سیاسی اعتماد یا عملے کی جانچ پڑتال سے متعلق مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔
طویل عرصے سے فوج کے ڈسپلن انسپکٹر اور مرکزی ملٹری کمیٹی کے وائس چیئرمین رہنے والے ژانگ شینگ من کو سی پی سی مرکزی کمیٹی کے پولیٹ بیورو کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔
1958ء میں صوبہ شانسی میں پیدا ہونے والے ژانگ اس سے قبل سی ایم سی ڈسپلن انسپکشن کمیشن کے سیکرٹری رہ چکے ہیں اور انہیں گزشتہ سال اکتوبر میں چوتھے اجلاس میں سی ایم سی کا وائس چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔ پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت میں ان کی شمولیت عسکری کمان کے اندر جاری صفائی مہم کے دوران سامنے آئی ہے۔
بڑے پیمانے پر کی جانے والی اس ڈسپلنری کارروائی کے باعث پیدا ہونے والا خلا ماؤ زی تنگ کے دور کے بعد کسی اجلاس میں حاضری کی کم ترین سطح کی صورت میں سامنے آیا۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق، اس اجلاس میں 162 مرکزی کمیٹی کے ارکان اور 117 متبادل ارکان سمیت صرف 279 افراد نے شرکت کی، جو کہ 2022ء کی 20 ویں نیشنل کانگریس میں منتخب ہونے والے کل 376 ارکان کا صرف 74.2 فیصد بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے چین میں کرپشن کے خلاف مہم: نمبر 2 جنرل سمیت 9 افسران برطرف
اجلاس کے دوران پارٹی نے ’مکمل اور سخت خود احتسابی‘ کے حوالے سے مرکزی کمیٹی کی ایک اہم قرارداد بھی منظور کی، جس میں مضبوط اور مرکزیت پر مبنی قیادت، اور حکام کی زیادہ سخت تربیت، انتخاب، تقرری، انتظام اور نگرانی پر زور دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ ‘پارٹی کی تعمیر پر شی جن پنگ کے افکار’ کا گہرائی سے مطالعہ اور نفاذ ضروری ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مہم کا مقصد نہ صرف بدعنوانی کا خاتمہ ہے بلکہ حکام کی سیاسی وفاداری اور پالیسیوں پر عملدرآمد کو بھی سخت کنٹرول میں لانا ہے۔










