دل کے کون سے والو کب اور کیوں خراب ہوتے ہیں؟ آسان الفاظ میں مکمل وضاحت

پیر 2 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دل انسانی جسم کا ایسا اہم عضو ہے جو مسلسل خون پمپ کرکے جسم کے تمام حصوں تک آکسیجن اور ضروری غذائی اجزا پہنچاتا ہے۔ اس پورے نظام میں دل کے 4 والو نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ والو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ خون دل کے اندر اور وہاں سے جسم کے دوسرے حصوں تک صرف ایک ہی سمت میں بہے اور واپس نہ پلٹے۔

یہ بھی پڑھیں: ورزش کے بعد دل کی دھڑکن کتنی جلد معمول پر آتی ہے؟ ایک آسان ٹیسٹ خطرات سے آگاہ کرسکتا ہے

عام طور پر جب کسی مریض کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے دل کا ایک یا 2 والو بند ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ والو تنگ ہوگئے ہیں، ان کے کھلنے میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے یا وہ پوری طرح بند نہیں ہو پارہے۔ ایسی صورت میں دل کو خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے اور بعض اوقات یہ مسئلہ سنگین بھی ہوسکتا ہے۔

دل کے والو کیسے کام کرتے ہیں؟

دل کے 4 خانے ہوتے ہیں جن میں سے 2 اوپر اور 2 نیچے واقع ہیں۔ اوپر کے خانوں کو ایٹریا جبکہ نیچے کے خانوں کو وینٹریکلز کہا جاتا ہے۔ دل کے چاروں والو ان خانوں کے درمیان یا خون کے باہر نکلنے کے راستوں پر موجود ہوتے ہیں۔

جب جسم کے مختلف حصوں سے آکسیجن سے محروم خون دل کے دائیں بالائی خانے میں پہنچتا ہے تو وہاں سے یہ ٹرائیکسپیڈ والو کے ذریعے دائیں نچلے خانے میں جاتا ہے۔ اس کے بعد دل اسے پلمونری والو سے گزار کر پھیپھڑوں تک پہنچاتا ہے جہاں خون آکسیجن حاصل کرتا ہے۔

پھیپھڑوں سے آکسیجن سے بھرپور خون دل کے بائیں بالائی خانے میں واپس آتا ہے۔ وہاں سے یہ مائٹرل والو کے ذریعے بائیں نچلے خانے میں پہنچتا ہے۔ آخر میں دل اسے ایورٹک والو سے گزار کر شہ رگ کے ذریعے پورے جسم میں پمپ کردیتا ہے۔

مزید پڑھیے: جسم میں چھپی سوزش دل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے، نئی تحقیق

دل کے یہ چاروں والو ہر دھڑکن کے ساتھ کھلتے اور بند ہوتے ہیں۔ ان کا درست کام کرنا اس لیے ضروری ہے کہ خون آگے کی طرف بہے اور پیچھے کی طرف واپس نہ آئے۔

دل کے 4 والو کون سے ہیں؟ ٹرائیکسپیڈ والو

یہ دل کے دائیں بالائی اور نچلے خانے کے درمیان موجود ہوتا ہے۔ اس کے 3 باریک پردے یا پتے ہوتے ہیں (والو کے اندر موجود باریک، نرم اور لچک دار پردے یا تہیں جو چھوٹے دروازوں کی طرح کام کرتی ہیں)۔ یہ خون کو دائیں بالائی خانے سے دائیں نچلے خانے میں جانے دیتا ہے اور پھر بند ہوکر اسے واپس جانے سے روکتا ہے۔

بعض افراد پیدائشی طور پر اس والو کے بغیر پیدا ہوتے ہیں جسے ٹرائیکسپیڈ ایٹریزیا کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ والو پوری طرح بند نہ ہو تو خون واپس دائیں بالائی خانے میں جاسکتا ہے جسے ٹرائیکسپیڈ ریگرجیٹیشن کہتے ہیں۔ اگر والو کا راستہ تنگ ہوجائے تو اسے ٹرائیکسپیڈ اسٹینوسس کہا جاتا ہے۔

پلمونری والو

یہ والو دل کے دائیں نچلے خانے اور پھیپھڑوں کی طرف جانے والی شریان کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کا کام آکسیجن سے محروم خون کو پھیپھڑوں تک جانے دینا اور اسے واپس دل میں آنے سے روکنا ہے۔

اگر اس والو کے پتے موٹے یا سخت ہوجائیں اور اس کا راستہ تنگ ہوجائے تو خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے۔ اس کیفیت کو پلمونری اسٹینوسس کہتے ہیں۔ اگر والو پوری طرح بند نہ ہو تو خون واپس دائیں نچلے خانے میں آنے لگتا ہے۔ بعض افراد میں یہ والو پیدائشی طور پر موجود نہیں ہوتا، جسے پلمونری ایٹریزیا کہا جاتا ہے۔

مائٹرل والو

یہ دل کے بائیں بالائی اور نچلے خانے کے درمیان موجود ہوتا ہے۔ پھیپھڑوں سے آکسیجن حاصل کرکے آنے والا خون اس والو سے گزرتے ہوئے بائیں نچلے خانے میں پہنچتا ہے۔

مائٹرل والو کا ایک عام مسئلہ مائٹرل والو پرولاپس ہے۔ اس کیفیت میں والو کے پتے درست طریقے سے ایک دوسرے سے نہیں مل پاتے یا پیچھے کی طرف مڑ جاتے ہیں جس سے خون واپس بائیں بالائی خانے میں جاسکتا ہے۔

اگر والو پوری طرح بند نہ ہو تو اسے مائٹرل ریگرجیٹیشن کہا جاتا ہے جبکہ اس کے سخت اور موٹے ہونے سے راستہ تنگ ہوجائے تو اسے مائٹرل اسٹینوسس کہتے ہیں۔ دل کا دورہ پڑنے یا دل کے حجم میں اضافے سے بھی اس والو کے پتے ایک دوسرے سے دور ہوسکتے ہیں جس کے نتیجے میں خون واپس بہنے لگتا ہے۔

ایورٹک والو

یہ دل کے بائیں نچلے خانے اور شہ رگ کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ دل جب آکسیجن سے بھرپور خون کو پورے جسم میں بھیجتا ہے تو خون اسی والو سے گزر کر شہ رگ میں داخل ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: پھیپھڑوں کے سرطان سے متعلق 13 عام غلط فہمیاں، حقیقت کیا ہے؟

اگر ایورٹک والو پوری طرح بند نہ ہو تو خون واپس دل کے بائیں نچلے خانے میں آنے لگتا ہے جسے ایورٹک ریگرجیٹیشن کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب والو کے پتے سخت یا موٹے ہوجائیں اور اس کا راستہ تنگ ہوجائے تو اسے ایورٹک اسٹینوسس کہتے ہیں۔ اس سے جسم کے باقی حصوں تک خون کی مناسب مقدار پہنچنے میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔

دل کے والو میں خرابی کی 2 بڑی اقسام

طبی ماہرین کے مطابق دل کے والو کی خرابی بنیادی طور پر دو طرح کی ہوسکتی ہے۔

پہلی قسم: والو کا پوری طرح بند نہ ہونا

اس کیفیت کو ریگرجیٹیشن کہا جاتا ہے۔ اس میں والو کے پتے پوری طرح بند نہیں ہوپاتے اور خون آگے جانے کے بجائے کچھ مقدار میں واپس دل کے پچھلے خانے میں چلا جاتا ہے۔ اس کی وجہ والو کے پتوں کی خرابی یا دل کے خانوں کا پھیل جانا بھی ہوسکتا ہے۔

اگر خرابی خود والو میں ہو تو اسے بنیادی والو کی بیماری کہا جاتا ہے جبکہ دل کے خانوں میں مسئلے کے نتیجے میں والو متاثر ہو تو اسے ثانوی والو کی خرابی کہا جاتا ہے۔

دوسری قسم: والو کا راستہ تنگ ہوجانا

اسے اسٹینوسس کہا جاتا ہے۔ اس میں والو کے پتے موٹے یا سخت ہوجاتے ہیں اور ان کے درمیان خون گزرنے کی جگہ محدود ہوجاتی ہے۔ اکثر ایسا والو کے پتوں پر کیلشیم اور دیگر مادوں کے جمع ہونے سے ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: دل کی دھڑکن اتنی غیر یکساں کیوں، یہ کس بات کے اشارے ہوسکتے ہیں؟

اس صورت میں دل کو خون آگے پمپ کرنے کے لیے زیادہ زور لگانا پڑتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ دل کے پٹھے بھی موٹے ہوسکتے ہیں لیکن خون کی فراہمی مناسب نہ رہے تو مریض کی حالت سنگین ہوسکتی ہے۔

دل کے والو خراب ہونے کی علامات کیا ہیں؟

دل کے والو میں خرابی کی علامات دوسری قلبی بیماریوں سے ملتی جلتی ہوسکتی ہیں اس لیے صرف علامات کی بنیاد پر بیماری کی تشخیص نہیں کی جاسکتی۔ تاہم چند عام علامات ہیں جیسے کہ سانس لینے میں دشواری، خصوصاً جسمانی مشقت یا چلنے پھرنے کے دوران۔ چکر آنا یا بے ہوشی طاری ہونا۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب محسوس ہونا یا ایسا لگنا جیسے دل کی دھڑکن ایک لمحے کے لیے رک گئی ہو۔ سینے میں درد یا جسم کے مختلف حصوں میں غیرمعمولی سوجن۔

اگر والو کی خرابی کا بروقت علاج نہ ہو تو دل کو مسلسل زیادہ محنت کرنا پڑ سکتی ہے جس سے دل کی ناکامی، فالج اور بعض صورتوں میں اچانک موت کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

دل کے والو کیوں خراب ہوتے ہیں؟

دل کے والو کی خرابی بعض اوقات پیدائشی ہوتی ہے، یعنی بچہ کسی ایک والو میں نقص کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ تاہم عمر بڑھنے کے ساتھ بھی یہ مسائل سامنے آسکتے ہیں۔ بعض دائمی بیماریاں، ذیابیطس اور دیگر طبی مسائل بھی والو کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تمباکو نوشی جیسی غیرصحت مند عادات بھی دل کی بیماریوں اور والو کے مسائل کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔

دل کے والو کی خرابی کا علاج کیسے ہوتا ہے؟

علاج کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ کون سا والو متاثر ہوا ہے اور خرابی کتنی شدید ہے۔ بعض صورتوں میں ڈاکٹر متاثرہ والو کے پتوں کی مرمت کے لیے سرجری تجویز کرسکتے ہیں۔ خاص طور پر مائٹرل اور ٹرائیکسپیڈ والو کے مسائل میں مرمت کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: دل کے دورے کے بارے میں سب سے بڑی غلط فہمی کیا ہے؟

اگر والو کی مرمت ممکن نہ ہو یا اس سے مسئلہ حل نہ ہو تو اسے مصنوعی والو سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ مصنوعی والو بھی قدرتی والو کی طرح خون کو درست سمت میں بہنے دینے کا کام کرتا ہے۔ بعض مریضوں میں یہ سرجری نسبتاً کم چیر پھاڑ کے ذریعے بھی ممکن ہوتی ہے۔

اس کے ساتھ والو کی خرابی کا سبب بننے والی دوسری بیماریوں کا علاج بھی ضروری ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ذیابیطس کے مریضوں کو خون میں شکر کی سطح قابو میں رکھنے اور دیگر بیماریوں کے لیے مناسب علاج کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

دل کے والو کو صحت مند رکھنے کے لیے کیا کریں؟

دل کی مجموعی صحت کا خیال رکھنا والو سمیت پورے قلبی نظام کے لیے اہم ہے۔ تمباکو نوشی ترک کرنا، باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی اختیار کرنا اور متوازن غذا کھانا دل کے مزید مسائل کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: مچھلی کا گوشت دل و دماغ کے لیے بیحد مفید، مہینے میں کتنے دن کھانا چاہیے؟

طبی ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کو سانس پھولنے، سینے میں درد، چکر آنے، بے ہوشی یا دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے جیسی علامات محسوس ہوں تو اسے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ دل کے والو میں خرابی کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج سنگین پیچیدگیوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp