وسطی بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کی نئی راہ، خضدار میں 2 ارب 84 کروڑ روپے سے جنرل یونیورسٹی قائم

منگل 3 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وسطی بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیشرفت ہوئی ہے جہاں خضدار میں شہید سکندر زہری یونیورسٹی کی تعمیر 2 ارب 84 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کرلی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کی بیٹیاں کسی سے کم نہیں، تربت کے گرلز کیڈٹ کالج میں کیا کچھ ہو رہا ہے؟

خوبصورت اور جدید عمارتوں پر مشتمل اس یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی سمیت بی ایس کے 4 پروگرامز میں داخلوں کا اعلان کردیا گیا ہے جبکہ باقاعدہ تدریسی سرگرمیاں مارچ 2027 میں شروع ہوں گی۔

خضدار میں حلوائی پہاڑوں کے دامن میں قائم شہید سکندر زہری یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر کے طور پر ڈاکٹر سہراب بزنجو کا انتخاب کیا گیا ہے جو جھالاوان کے علاقے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک معروف شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔

یونیورسٹی کا تعمیراتی منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچنے کے بعد وسطی بلوچستان اور جھالاوان کے ان سینکڑوں نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے نئے راستے کھل گئے ہیں جو مالی مشکلات کے باعث خضدار سے باہر ملک کی دیگر جامعات میں داخلہ لینے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ اب انہیں اپنے ہی علاقے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع میسر آئے گا۔

مزید پڑھیے: بلوچستان میں مسلسل غیر حاضر رہنے والے مزید 72 ڈاکٹر برطرف، ملازمت سے فارغ ملازمین کی تعداد 200 ہوگئی

یونیورسٹی کے قیام پر مقامی نوجوانوں، خصوصاً طالبات میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ ان میں سے بہت سی طالبات گھر سے دور دوسرے شہروں میں جا کر تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہتی تھیں۔ نئی یونیورسٹی کے قیام سے انہیں اپنے علاقے میں رہتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے گا۔

شہید سکندر زہری یونیورسٹی کے قیام سے نہ صرف مقامی نوجوانوں کو تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی بلکہ علاقے میں ملازمتوں اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ماہرین اس یونیورسٹی کو وسطی بلوچستان کی پہلی جنرل یونیورسٹی قرار دے رہے ہیں جو اس خطے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سہراب بزنجو کے مطابق داخلوں کے اعلان کے بعد بڑی تعداد میں نوجوان درخواستیں جمع کرا رہے ہیں۔ یونیورسٹی میں اس وقت بی ایس کے 4 پروگرامز میں داخلے جاری ہیں جن میں بی ایس انگلش، بیچلر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (بی بی اے)، بی ایس آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور بیچلر آف ایجوکیشن (بی ایڈ) شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ’5 سال کی عمر میں والد کا انتقال ہوگیا، مگر دانش اسکول نے تقدیر ہی بدل دی‘، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے عرفان اللہ کی زبردست کہانی

ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں باقاعدہ تدریسی سرگرمیوں کا آغاز مارچ 2027 میں کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا