راولاکوٹ میں 3 گھنٹے فائرنگ کرنے والے پرامن احتجاج کا دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں؟ وزیراعظم آزاد کشمیر

منگل 3 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے راولاکوٹ میں نقل و حرکت میں رکاوٹوں کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے اور مریضوں کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند افراد کی وجہ سے آنے والی نسلوں کا مستقبل خطرے میں ڈالنا کسی صورت درست نہیں۔

راولاکوٹ کے دورے کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ عوام کو تعلیم اور علاج جیسی بنیادی سہولیات تک رسائی سے محروم کرنا کسی پُرامن تحریک کا حصہ نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو عناصر مسلسل 3 گھنٹے فائرنگ کرتے رہے، وہ اپنے احتجاج کو پُرامن کیسے قرار دے سکتے ہیں؟ بچوں کے اسکول جانے اور مریضوں کے اسپتال پہنچنے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا کسی بھی طرح پُرامن احتجاج کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

افتخار گیلانی نے کہا کہ ریاست کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کو بہتری کی کوشش قرار نہیں دیا جاسکتا۔ آزاد کشمیر میں طرز حکمرانی سے متعلق کوئی مسئلہ اتنا سنگین نہیں کہ اس کی بنیاد پر امن و امان کی صورتحال خراب کی جائے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر نے راولاکوٹ کے عوام کی تاریخی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس خطے کے لوگوں نے تحریک آزادی کشمیر میں بے مثال اور قابل قدر قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 انتخابات کے دوران راولاکوٹ کے عوام نے کبھی تعصب پر مبنی گفتگو کو ترجیح نہیں دی بلکہ ہمیشہ تعمیر و ترقی اور علاقے کے مسائل کے حل کے مطالبات کیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں آمدورفت متاثر ہونے سے نہ صرف تعلیمی نظام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ علاج کے لیے اسپتالوں کا رخ کرنے والے مریض بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوچنا ضروری ہے کہ چند افراد کے اقدامات کی قیمت نئی نسل کو کیوں ادا کرنا پڑے۔

افتخار گیلانی نے راولاکوٹ کے شہریوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت علاقے کے مسائل کے حل اور ترقی کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے راولاکوٹ کا دورہ علاقے کو درپیش مسائل کا زمینی حقائق کی روشنی میں جائزہ لینے اور ان کے عملی حل کی کوششوں کے سلسلے میں کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp