ٹرمپ کی شکست میں مہنگائی کا کتنا ہاتھ؟ انتخابی سروے میں اہم انکشافات

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن پارٹی کو درپیش مشکلات کے پس منظر میں مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات، معاشی صورت حال اور حکومتی کارکردگی سے متعلق عوامی عدم اطمینان نمایاں عوامل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انتخابی سروے کے مطابق بڑی تعداد میں امریکی ووٹرز نے روزمرہ اخراجات میں اضافے کو اپنے ووٹ کے فیصلے میں اہم قرار دیا، جب کہ اکثریت نے صدر ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں اور مجموعی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انتخابات کے موقع پر کیے گئے ایگزٹ پولز میں تقریباً 90 فیصد ووٹرز نے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کو اپنا ووٹ دینے کے فیصلے میں اہم یا انتہائی اہم عنصر قرار دیا۔ تقریباً 2 تہائی ووٹرز نے ملک میں بلند قیمتوں کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو ٹھہرایا، جب کہ 3 چوتھائی ووٹرز نے ملک کی موجودہ سمت پر غصے یا عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

رائٹرز کے مطابق بہت سے ووٹرز کا کہنا تھا کہ وہ 2 سال پہلے کے مقابلے میں اب خود کو معاشی طور پر زیادہ مشکلات میں محسوس کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے وقت مہنگائی پر جلد قابو پانے کا وعدہ کیا تھا، تاہم انتخابی جائزوں میں اکثریتی ووٹرز نے ان کی پالیسیوں، بالخصوص ایران کے ساتھ جنگ اور درآمدی اشیا پر عائد محصولات کو معاشی مشکلات میں اضافے کا سبب قرار دیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے تقریباً 80 ہزار ووٹرز پر مشتمل ملک گیر سروے میں بھی صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے متعلق عدم اطمینان نمایاں رہا۔ سروے کے مطابق تقریباً 60 فیصد ووٹرز نے صدارت کے امور سے نمٹنے میں ٹرمپ کی کارکردگی کو مسترد کیا، جب کہ تقریباً اتنی ہی تعداد کا خیال تھا کہ صدر ملک کے مفادات کے مقابلے میں اپنے ذاتی مفادات کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔

سروے میں تقریباً 70 فیصد ووٹرز نے کہا کہ کانگریس صدر کے اختیارات پر نگرانی اور توازن قائم کرنے کے لیے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا نہیں کررہی۔ اس کے علاوہ تقریباً تین چوتھائی ووٹرز نے کانگریس کی مجموعی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان ظاہر کیا۔

معیشت اور جمہوریت ووٹرز کی اہم ترجیحات

اے پی کے سروے کے مطابق تقریباً 40 فیصد ووٹرز نے معیشت کو امریکا کا سب سے اہم مسئلہ قرار دیا، جب کہ تقریباً 30 فیصد نے جمہوریت کی صورت حال کو بنیادی تشویش بتایا۔ مہنگائی اور حکومتی بدعنوانی بھی انتخابی فیصلے پر اثرانداز ہونے والے نمایاں معاملات میں شامل رہیں۔ تقریباً نصف ووٹرز نے ان دونوں معاملات کو کانگریس کے انتخاب میں انتہائی اہم قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:جارجیا میں نئی تاریخ رقم، کیشا لانس باٹمز پہلی سیاہ فام گورنر بن گئیں

سروے کے نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کو معیشت اور حکومتی بدعنوانی سمیت بعض اہم معاملات سے نمٹنے کی صلاحیت کے حوالے سے ری پبلکنز پر معمولی برتری حاصل رہی، تاہم مجموعی طور پر دونوں جماعتوں کو عوامی مقبولیت کے حوالے سے ملتے جلتے چیلنجز کا سامنا ہے۔

نوجوان ووٹرز کا رجحان ڈیموکریٹس کی جانب

اے پی کے سروے میں نوجوان ووٹرز کے رجحان میں بھی نمایاں تبدیلی سامنے آئی۔ 30 سال سے کم عمر ووٹرز میں تقریباً 70 فیصد نے ایوانِ نمائندگان کے لیے ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت کی، جب کہ تقریباً 30 فیصد نے ری پبلکن امیدواروں کو ووٹ دیا۔

یہ رجحان 2024ء کے صدارتی انتخابات سے مختلف تھا، جب نوجوان ووٹرز کی حمایت ڈونلڈ ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان تقریباً برابر تقسیم تھی۔ حالیہ انتخابات میں نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد نے اپنے ووٹ کو صدر ٹرمپ کی مخالفت کے اظہار کا ذریعہ بھی قرار دیا۔

اے پی کے مطابق تقریباً 10 میں سے 4 ووٹرز نے کہا کہ انہوں نے کانگریس کے لیے اپنا ووٹ ٹرمپ کی مخالفت کے اظہار کے طور پر دیا، جب کہ 10 میں سے 2 سے بھی کم ووٹرز نے کہا کہ ان کا مقصد صدر کی حمایت کرنا تھا۔ تقریباً 10 میں سے 4 ووٹرز نے کہا کہ ٹرمپ ان کے انتخابی فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوئے۔

انتخابی نتائج پر معاشی مسائل کے اثرات

رائٹرز کے انتخابی جائزے کے مطابق صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران ری پبلکن امیدواروں کی حمایت میں 19 ریاستوں کا دورہ کیا، تاہم مہنگائی، درآمدی محصولات اور ایران کے ساتھ جنگ کے معاشی اثرات سے متعلق عوامی تشویش ان کی جماعت کے لیے ایک اہم انتخابی چیلنج بنی رہی۔

ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات میں براہ راست امیدوار نہیں تھے، تاہم ان کی حکومت کی کارکردگی، معاشی پالیسیوں اور سیاسی ترجیحات انتخابی مہم کے اہم موضوعات رہے۔ ڈیموکریٹس کی کامیابیوں اور ری پبلکنز کو ملنے والے انتخابی دھچکوں کو بھی اسی وسیع تر سیاسی اور معاشی پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp