روسی سیکیورٹی ادارے ایف ایس بی نے امریکی حکام کی جانب سے فراہم کردہ اطلاع کے بعد ماسکو کے ایک بڑے عجائب گھر میں مبینہ دہشتگرد حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے کم عمر روسی شہری کو گرفتار کرلیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق روسی سیکیورٹی ادارے نے اتوار کو بتایا کہ امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر ملزم کو حراست میں لیا گیا۔ ایف ایس بی نے اس اطلاع پر امریکی حکام کا شکریہ بھی ادا کیا۔
یہ گرفتاری ماسکو میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کیے گئے سیکیورٹی الرٹ کے ایک روز بعد عمل میں آئی۔ سفارتخانے نے خبردار کیا تھا کہ ماسکو کے تساریتسینو میوزیم ریزرو میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا باعث بننے والے حملے کا قابلِ اعتبار خطرہ موجود ہے۔
While checking US intelligence regarding a potential terror attack in Moscow, Russia’s FSB detained a teenager who made a post on TikTok threatening to commit a crime in Tsaritsyno Park, the FSB press center said. He posted photos taken at the Tsaritsyno Museum with the caption:… pic.twitter.com/VR3Jy2CmES
— TASS (@tassagency_en) November 1, 2026
ایف ایس بی کے مطابق گرفتار نوجوان نے ٹک ٹاک پر ایسی تصاویر پوسٹ کی تھیں جن میں وہ فوجی طرز کے لباس میں نظر آرہا تھا اور اس کے پاس خودکار ہتھیار سے مشابہ ایک چیز موجود تھی۔ اس نے عجائب گھر میں بنائی گئی تصاویر کے ساتھ ‘مجھے ایک جگہ مل گئی ہے’ کا جملہ بھی لکھا تھا۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم ٹیلیگرام پر ایک نیو نازی گروپ کے چینل کا رکن تھا اور اس نے ماضی کے دہشتگرد حملوں، اجتماعی قتل اور دیگر پُرتشدد واقعات کے بارے میں متعدد بار انٹرنیٹ پر معلومات تلاش کی تھیں۔ حکام کے مطابق اس کے گھر سے ایئر سافٹ ہتھیار بھی برآمد ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:روسی حملوں کا خوف: ہالی ووڈ اداکار کی کیف کے زیرِ زمین اسٹیشن میں رات گزارنے کی کہانی وائرل
امریکی سفارتخانے نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی حکومت اس معاملے پر روسی حکام سے رابطے میں ہے۔ اس کے بعد عجائب گھر میں ہونے والی بعض تقریبات منسوخ کردی گئیں اور سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے۔
سی این این کے مطابق امریکا اس سے قبل بھی روس کو دہشتگردی کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کرچکا ہے۔ مارچ 2024 میں امریکی سفارت خانے نے ماسکو میں بڑے اجتماعات، خصوصاً کنسرٹس کو داعش کے ممکنہ حملوں سے خبردار کیا تھا، تاہم صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس انتباہ کو اشتعال انگیزی قرار دیا تھا۔ چند روز بعد کروکس سٹی ہال پر حملے میں 140 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔











