حکیم جیفریز کے امریکی ایوانِ نمائندگان کے پہلے سیاہ فام اسپیکر بننے کی راہ ہموار

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کے بعد حکیم جیفریز کے ایوانِ نمائندگان کے پہلے سیاہ فام اسپیکر منتخب ہونے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

تاہم انہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت کے ساتھ اپنی جماعت کے اعتدال پسند اور ترقی پسند دھڑوں کے درمیان اختلافات ختم کرنے کا بھی چیلنج درپیش ہوگا۔

نیویارک سے تعلق رکھنے والے 56 سالہ حکیم جیفریز جنوری کے پہلے ہفتے نئی ڈیموکریٹک اکثریت کی قیادت سنبھال سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مشی گن سینیٹ ریس میں مسلمان امیدوار عبدالسید کا فتح کا دعویٰ

اس طرح ایوانِ نمائندگان پر گزشتہ 4 سال سے قائم ری پبلکن جماعت کا کنٹرول ختم ہوجائے گا۔

منگل کی شب انتخابی نتائج کے ابتدائی تخمینوں میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کے امکانات سامنے آنے کے بعد جیفریز نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج امریکا کی عظیم واپسی کا آغاز ہو رہا ہے۔

انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غریبوں اور معذور افراد کے لیے صحت کی سہولتوں کے پروگرام میڈیکیڈ میں کی گئی بھاری کٹوتیاں واپس لینے کے لیے قانون سازی کا عزم ظاہر کیا۔

جیفریز کے مطابق امریکی عوام انتہا پسندی اور بدعنوانی سے تنگ آچکے ہیں اور ایسی کانگریس چاہتے ہیں جو ان کے مسائل حل کرسکے۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کریں گے۔

مزید پڑھیں: امریکی وسط مدتی انتخابات ٹرمپ کے لیے بڑا سیاسی دھچکا، ڈیموکریٹس کی کامیابی سے امریکی خارجہ پالیسی پر دباؤ بڑھنے کا امکان

انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے کاروباری شخصیات سے روابط کی تحقیقات کا بھی عندیہ دیا، خصوصاً ان افراد کے حوالے سے جنہوں نے صدر کی انتخابی مہمات اور منصوبوں کے لیے بھاری مالی عطیات دیے۔

تاہم انہوں نے ٹرمپ کے تیسرے مواخذے کے امکان پر کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔

اسپیکر کے انتخاب سے قبل جیفریز کو اپنی جماعت کے ترقی پسند ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔

مزید پڑھیں:امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی، ٹرمپ کا نتائج قبول کرنے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا اعلان

بعض ارکان اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے، یونیورسل ہیلتھ کیئر، سرکاری رہائش اور ووٹنگ قوانین میں اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کے حامی گروپ جیفریز کے بڑے مالی معاونین میں شامل ہیں، جبکہ وہ میڈیکیئر فار آل منصوبے کے بھی زیادہ حامی نہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ترقی پسند دھڑے کو مطمئن کرنے کے لیے زیادہ رعایتیں دینے سے جماعت کے اعتدال پسند ارکان ناراض ہوسکتے ہیں۔

تاہم ان کے لیے سب سے بڑا امتحان ری پبلکن ارکان کے تعاون سے قرض لینے کی حد میں اضافے اور وفاقی بجٹ کی منظوری جیسے اہم معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا