امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے وسط میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی نے اہم کامیابیاں حاصل کرلی ہیں، جب کہ ری پبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے شمالی کیرولائنا میں ری پبلکنز سے سینیٹ کی ایک اہم نشست چھین لی ہے، جب کہ جارجیا اور نیو ہیمپشائر میں بھی کامیابی حاصل کرکے سینیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرلی ہے۔ تاہم سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کا حتمی کنٹرول ابھی غیر واضح ہے اور کئی اہم ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق سابق گورنر رائے کوپر نے شمالی کیرولائنا میں ری پبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست اپنے نام کرلی۔ یہ ڈیموکریٹس کی انتخابی رات کی پہلی بڑی کامیابی اور ری پبلکنز سے چھینی جانے والی پہلی سینیٹ نشست ہے۔ کوپر نے انتخابی مہم کے دوران مہنگائی، ایندھن اور کھاد کی بڑھتی قیمتوں اور ایران کے ساتھ جنگ کے معاشی اثرات کو اہم موضوع بنایا تھا۔
BREAKING: At 9 p.m. ET, polls have closed in Texas, Michigan and 13 more states as the battle for control of the Senate moves into another round of vote counting.
In Texas, the Fox News Decision Desk says the Senate race between Republican Attorney General Ken Paxton and… pic.twitter.com/xOrI1FwWos
— Fox News (@FoxNews) November 4, 2026
جارجیا میں ڈیموکریٹک سینیٹر جون اوسوف نے ری پبلکن امیدوار مائیک کولنز کو شکست دے کر دوبارہ کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ ری پبلکنز کو اس نشست پر کامیابی کی خاصی امید تھی اور وہ اسے ڈیموکریٹس سے چھیننے کی کوشش کررہے تھے۔
اسی طرح نیو ہیمپشائر میں ڈیموکریٹک امیدوار کرس پاپاس نے سابق سینیٹر جان سنونو کو شکست دے دی۔ اس کامیابی کے ذریعے ڈیموکریٹس نے اپنی جماعت کی خالی ہونے والی نشست برقرار رکھی اور ری پبلکنز کو سینیٹ میں ممکنہ اضافی نشست حاصل کرنے سے روک دیا۔
اے پی کے مطابق ان نتائج کے بعد ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے مزید 3 نشستوں پر کامیابی درکار ہے۔ اس وقت ان کی نظریں الاسکا، آئیووا، کنساس، مین، مشی گن، اوہائیو اور ٹیکساس سمیت ان ریاستوں پر مرکوز ہیں جہاں مقابلہ سخت ہے۔
ایوانِ نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس کی پیشقدمی
امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس نے ابتدائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اے پی کے مطابق شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹک امیدوار جیمی ایجر نے ری پبلکن امیدوار جینیفر کیپس بالکوم کو شکست دے کر ری پبلکنز کی ایک نشست اپنے نام کرلی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 2024ء کے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ نے اس انتخابی حلقے سے تقریباً 10 فیصد ووٹوں کی برتری حاصل کی تھی۔
نیو جرسی میں بھی ڈیموکریٹک امیدوار ربیکا بینیٹ نے ری پبلکن رکن کانگریس ٹام کین کو شکست دے کر ایک اور نشست حاصل کی۔ اس طرح ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس ری پبلکنز کی کم از کم 2 نشستیں چھیننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی انتخابات سے قبل آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی ایرانی حکمت عملی کیوں؟
اے پی کے مطابق ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ری پبلکنز سے کم از کم 3 نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے۔ ایوان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں اور کئی حلقوں میں مقابلہ ابھی جاری ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ انتخابات کے بعد ری پبلکنز کو ایوانِ نمائندگان میں 219 جبکہ ڈیموکریٹس کو 214 نشستیں حاصل تھیں، جب کہ 2 نشستیں خالی تھیں۔ ری پبلکنز کی اکثریت پہلے ہی معمولی فرق سے قائم تھی، اس لیے چند نشستوں کا نتیجہ بھی ایوان کا سیاسی توازن تبدیل کرسکتا ہے۔
گورنر کے انتخابات میں بھی اہم کامیابیاں
امریکا کی 36 ریاستوں میں گورنروں کے انتخابات بھی ہوئے ہیں، جن کے نتائج میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز دونوں نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
اے پی کے مطابق ریاست جارجیا میں ڈیموکریٹک امیدوار اور اٹلانٹا کی سابق میئر کیشا لانس باٹمز نے ری پبلکن امیدوار رک جیکسن کو شکست دے کر گورنر کا انتخاب جیت لیا ہے۔ وہ امریکا کی کسی بھی ریاست کی گورنر منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون بن گئی ہیں۔ جارجیا میں ڈیموکریٹس کی یہ کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ 1998ء کے بعد پہلی مرتبہ اس جماعت نے ریاست کی گورنر شپ حاصل کی ہے۔
US Midterm Elections 2026
Update: First numbers trickle in.
– Democrats lead the Senate count
– Democrats hold 43 Senate seats, Republicans 31@akankshaswarups with details. pic.twitter.com/wp6DuQJcgT
— TIMES NOW (@TimesNow) November 4, 2026
دوسری جانب فلوریڈا میں ری پبلکن امیدوار بائرن ڈونلڈز نے کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ امریکا کی کسی ریاست کے گورنر منتخب ہونے والے پہلے سیاہ فام ری پبلکن سیاست دان ہیں۔
اس کے علاوہ پنسلوانیا میں ڈیموکریٹک گورنر جوش شپیرو، الینوائے میں جے بی پرٹزکر، میری لینڈ میں ویس مور، میساچوسٹس میں مورا ہیلی اور نیویارک میں کیتھی ہوکل بھی دوبارہ منتخب ہوگئے ہیں۔
ٹرمپ کی مقبولیت اور مہنگائی انتخابی نتائج کا اہم عنصر
خبر رساں ادارے رائٹرز کی انتخابی جائزہ رپورٹ اور اے پی کے ووٹر سروے کے مطابق انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے والے اہم عوامل میں مہنگائی، روزمرہ اخراجات میں اضافہ، ایران کے ساتھ جنگ اور حکومت کی کارکردگی سے متعلق عوامی عدم اطمینان شامل ہیں۔
اے پی کے ووٹر سروے کے مطابق تقریباً 3 چوتھائی ووٹرز ملک کی موجودہ سمت سے ناخوش یا ناراض ہیں۔ تقریباً اتنی ہی تعداد نے ملکی معیشت کی صورت حال کو خراب یا غیر تسلی بخش قرار دیا، جب کہ 10 میں سے تقریباً 8 ووٹرز نے اعتراف کیا کہ مہنگائی نے ان کے گھریلو بجٹ کو درمیانے یا شدید درجے تک متاثر کیا ہے۔
سروے کے مطابق تقریباً 60 فیصد ووٹرز کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ ملک کے مفادات کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ تقریباً 70 فیصد ووٹرز چاہتے ہیں کہ کانگریس صدر کے اختیارات پر مزید نگرانی اور توازن قائم کرے۔
یہ بھی پڑھیں:چین پر امریکی انتخابات میں مداخلت کا الزام، ٹرمپ نے خفیہ انٹیلیجنس دستاویزات جاری کر دیں
رائٹرز کے مطابق انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے ری پبلکن امیدواروں کی حمایت میں بھرپور مہم چلائی، تاہم مہنگائی اور ایران کے ساتھ جنگ کے باعث پیدا ہونے والی معاشی مشکلات پر عوامی تشویش ان کی جماعت کے لیے مشکلات کا سبب بنی۔ رائے شماری کے ابتدائی جائزوں میں بھی ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کے اشارے سامنے آئے تھے۔
اے پی کے ووٹر سروے میں نوجوان ووٹرز کا رجحان بھی ڈیموکریٹس کی جانب بڑھتا دکھائی دیا۔ 30 سال سے کم عمر ووٹرز میں تقریباً 70 فیصد نے اپنے حلقے میں ڈیموکریٹک امیدوار کو ووٹ دینے کا عندیہ دیا، جب کہ 2024ء کے صدارتی انتخاب میں اسی عمر کے ووٹرز تقریباً برابر تعداد میں ٹرمپ اور کملا ہیرس کے حامی تھے۔
اہم ریاستی فیصلے اور دیگر انتخابی نتائج
وسط مدتی انتخابات میں کانگریس اور گورنروں کے انتخاب کے علاوہ مختلف ریاستوں میں اہم آئینی ترامیم اور عوامی ریفرنڈم بھی ہوئے ہیں۔
اے پی کے مطابق ریاست ورجینیا کے ووٹرز نے تولیدی آزادی سے متعلق آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت اسقاطِ حمل اور تولیدی صحت سے متعلق حقوق کو ریاستی آئین میں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
A handful of polling locations across the US have reported technical issues with how ballots are cast during the midterm elections, causing officials to delay the closing time for polls https://t.co/BloD5TYY4c pic.twitter.com/ISNcrRqTOu
— Al Jazeera English (@AJEnglish) November 4, 2026
میری لینڈ میں بھی ووٹرز نے ایک آئینی ترمیم کی منظوری دی ہے، جس کے تحت ریاستی قانون سازوں کو کانگریس کے انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی کرنے میں زیادہ گنجائش مل سکے گی۔ اس فیصلے کو ری پبلکن اکثریتی ریاستوں میں انتخابی حلقوں کی حدبندی تبدیل کرنے کی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔
اے پی کے مطابق امریکا میں 3 نومبر کے انتخابی دن سے قبل 5 کروڑ 90 لاکھ سے زائد افراد اپنا ووٹ ڈال چکے تھے، جو 2022ء کے وسط مدتی انتخابات میں قبل از وقت ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔
ٹرمپ کی باقی مدتِ صدارت کے لیے نتائج کی اہمیت
امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج صدر کی مدتِ صدارت کو براہِ راست تبدیل نہیں کرتے، تاہم کانگریس میں اکثریت کا تعین صدر کے آئندہ 2 سال کے سیاسی اور انتظامی معاملات پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
رائٹرز کے تجزیے کے مطابق اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو انہیں ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں کی تحقیقات، سرکاری عہدیداروں کو طلب کرنے اور حکومتی پالیسیوں کی نگرانی کے لیے زیادہ اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس ری پبلکنز سینیٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں تو وہ ڈیموکریٹس کے کئی قانون سازی کے اقدامات روک سکتے ہیں۔
اگر ڈیموکریٹس کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اپنی قانون سازی کی ترجیحات آگے بڑھانا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔ تاہم صدر کو صدارتی ویٹو اور انتظامی اختیارات بدستور حاصل رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:https://x.com/Reuters/status/2117787492766142841
رائٹرز کے مطابق کانگریس میں اکثریت کی تبدیلی کے باوجود 2027ء میں حکومتی اخراجات، وفاقی بجٹ اور قرض لینے کی حد سے متعلق سیاسی کشمکش بھی شدت اختیار کرسکتی ہے۔
یوں ابتدائی نتائج کو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اہم سیاسی انتباہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم انتخابات کا مکمل سیاسی اثر اس وقت سامنے آئے گا جب کانگریس کے دونوں ایوانوں اور ریاستی حکومتوں کے تمام اہم مقابلوں کے نتائج واضح ہوجائیں گے۔











