امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کی شکست کے بعد ایلون مسک کی کمپنیوں ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے حصص کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کی کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کی پیش رفت نے مسک کے کاروباری مفادات کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بدھ کو کاروباری سرگرمیوں کے آغاز پر دونوں کمپنیوں کی مجموعی مالیت میں 215 ارب ڈالر تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا، جبکہ ان کے حصص کی قیمتوں میں 6 سے 7 فیصد تک گراوٹ متوقع تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟
اسپیس ایکس کے حصص کی قیمت بھی اس کی ابتدائی عوامی فروخت (آئی پی او) کے وقت مقرر کردہ قیمت سے نیچے آنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔
بلومبرگ کے مطابق ڈیموکریٹس کی کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنے کی جانب پیش رفت سے دونوں کمپنیوں کے حصص پر فروخت کا دباؤ بڑھا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اس سے ایلون مسک کے کاروبار پر حکومتی نگرانی سخت ہوسکتی ہے۔
ایلون مسک نے وسط مدتی انتخابات کے دوران ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں کروڑوں ڈالر خرچ کیے تھے، بالخصوص ریاست ٹیکساس میں جہاں ڈیموکریٹس نے اہم کامیابیاں حاصل کیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر، مڈٹرم انتخابات کے بعد مارکیٹس میں ہلچل
سرمایہ کاروں کو توقع تھی کہ ریپبلکنز کی کامیابی سے ٹیسلا اور اسپیس ایکس کو سازگار حکومتی پالیسیوں کا فائدہ پہنچے گا، جن میں مصنوعی ذہانت کے مراکزِ معلومات کی توسیع بھی شامل تھی۔
تاہم کانگریس میں ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول کے بعد ان کمپنیوں کے خلاف سخت ضابطوں اور ممکنہ تحقیقات کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
انتخابی نتائج ایلون مسک کی جانب سے زیرِ غور ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے مجوزہ انضمام کے منصوبے کو بھی پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ مسک نے حالیہ آمدنی سے متعلق گفتگو کے دوران دونوں کمپنیوں کے انضمام کے امکان پر بات کی تھی۔











