واشنگٹن میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے سے پہلے ہی کرنسی مارکیٹس پر بلیو ویو کا اثر نظر آنے لگا۔ امریکی ڈالر انڈیکس بدھ کے روز ایک ماہ کی کم ترین سطح 101.41 پر آ گیا جب ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں کامیابی حاصل کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی روپیہ ترقی کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا، جانیے کرنسی ریٹ بشمول امریکی ڈالر
رائٹرز کے مطابق ٹریڈرز صرف انتخابی نتائج پر ردعمل نہیں دے رہے بلکہ سست معاشی نمو کی قیمت بھی لگا رہے ہیں۔ امریکا کی حالیہ معاشی ترقی کا بڑا حصہ اے آئی پر ہونے والی سرمایہ کاری سے جڑا رہا ہے، اور ڈیموکریٹس کے زیر قیادت کانگریس میں اس شعبے پر سخت قوانین اور ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت کا امکان بڑھ گیا ہے۔
سست نمو کا مطلب شرح سود میں اضافے کی ضرورت میں کمی بھی ہے اور شرح سود میں اضافہ عام طور پر کرنسی کو سہارا دیتا ہے۔
ڈالر میں کمزوری کے بعد دیگر کرنسیوں میں تیزی
یورو 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1236 ڈالر پر
برطانوی پاؤنڈ 0.46 فیصد اضافے سے 1.3475 ڈالر پر
سوئس فرانک کے مقابلے میں ڈالر 0.54 فیصد گر گیا
جاپانی ین کے مقابلے میں ڈالر 0.38 فیصد کمی سے 158.09 ین پر ٹریڈ کرتا رہا
محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے اثاثوں میں تیزی آئی۔ سونا 2.2 فیصد بڑھ کر 4,000 ڈالر فی اونس سے اوپر چلا گیا، جبکہ امریکی حکومت کے بانڈز کی خریداری کے باعث 10 سالہ ٹریژری کی ییلڈ کم ہو کر 4.92 فیصد پر آ گئی۔
مزید پڑھیے: سونے کی قیمت میں حیران کن اضافہ، فی تولہ کتنا مہنگا ہوگیا؟
ایشیائی مارکیٹ میں اے آئی سے متعلقہ اسٹاکس میں نمایاں کمی ہوئی۔ ایکس ٹی بی کی کیتھلین بروکس کے مطابق پری مارکیٹ ٹریڈنگ میں اسپیس ایکس 5 فیصد گرا جبکہ ٹیسلا میں 4 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا کیونکہ ایلون مسک کو زیادہ تر ڈیموکریٹس کے لیے ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ مسک نے مڈٹرم میں ریپبلکن گروپس کے ذریعے 44 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خرچ کیے ہیں۔











