وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز اور مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری سالک حسین نے پنجاب حکومت میں بدعنوانی سے متعلق اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے قانونی نوٹس بھجوائے جانے کا علم سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا، نوٹس موصول ہونے پر عدالت میں اس کا بھرپور جواب دیں گے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پنجاب میں کرپشن سے متعلق انہوں نے جو بات کی تھی، وہ ان کا ذاتی مؤقف ہے اور وہ آج بھی اس پر قائم ہیں۔
لیگل نوٹس کا جواب دیں گے اور بھرپور جواب دیں گے۔دو دن پہلے خود گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ پنجاب میں کرپشن ہورہی ہے۔
وفاقی وزیر چوہدری سالک https://t.co/JTeEU1tNDo— Abd (@AwaamiLens) November 4, 2026
انہوں نے کہا کہ 2 روز قبل پنجاب حکومت نے خود بھی صوبے میں کرپشن کی موجودگی کو تسلیم کیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر گجرات کی تعیناتی سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے اپنے خلاف لگائے گئے الزام کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔
چوہدری سالک حسین کا کہنا تھا کہ انہیں تاحال وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے قانونی نوٹس موصول نہیں ہوا، اس بارے میں سوشل میڈیا سے معلوم ہوا ہے۔ اگر نوٹس موصول ہوا تو وہ عدالت میں اس کا مکمل اور بھرپور جواب دیں گے۔
مسلم لیگ ق کی وفاقی حکومت سے ممکنہ علیحدگی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے اس امکان کو مسترد کردیا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ فی الحال اتنا کہنا کافی ہے کہ قانونی نوٹس کا جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر چوہدری سالک نے ایک ٹی وی پروگرام میں پنجاب میں مبینہ کرپشن سے متعلق بات کی تھی، جس کا مریم نواز نے پہلے سخت جواب دیا اور پھر ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا۔











