افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمتی گروپوں کے حملوں میں اکتوبر کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مختلف گروپوں کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں طالبان کے ٹھکانوں اور اہلکاروں پر 82 حملے کیے گئے، جو ستمبر کے مقابلے میں دُگنا سے بھی زیادہ ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق علاقائی امور کے افسر ول سیلبر کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق یہ حملے افغانستان کے 21 صوبوں میں کیے گئے۔ ان میں دھماکا خیز مواد کے ذریعے حملے، راکٹ اور مارٹر گولہ باری، گھات لگا کر کارروائیاں اور ٹارگٹ کلنگ شامل ہیں۔
مزاحمتی گروپوں کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں 122 طالبان اہلکار ہلاک اور 68 زخمی ہوئے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
Anti-Taliban resistance groups claim to have carried out 82 attacks against Taliban positions and members across Afghanistan in October. According to figures released by the groups, the number of attacks more than doubled compared with September.https://t.co/vkpkCeVoLa pic.twitter.com/9pnd9IhJQT
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) November 3, 2026
رپورٹ کے مطابق سابق افغان فوجی کمانڈر سمیع سادات کی قیادت میں قائم افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے سب سے زیادہ 36 حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں سے بیشتر قندھار اور ہلمند میں کیے گئے۔ احمد مسعود کی قیادت میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے 11 جبکہ سابق افغان آرمی چیف یاسین ضیا کے زیرقیادت افغانستان فریڈم فرنٹ نے 10 حملوں کا دعویٰ کیا۔
افغانستان فریڈم فرنٹ نے 22 اکتوبر کو بگرام ایئر بیس پر حملے میں 10 سے زائد طالبان اہلکاروں کو ہلاک یا زخمی کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔
سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کی قیادت میں گرین ٹرینڈ کے عسکری ونگ نے 8 حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ گروپ نے پنجشیر میں بھارتی ساختہ چیٹل ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ کیا، جس میں 2 پائلٹ زخمی ہوئے۔ طالبان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہیلی کاپٹر ناموزوں مقام پر اترنے کی کوشش کے دوران چٹان سے ٹکرا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے روکنے میں ناکام رہے، مارکو روبیو
رپورٹ میں دیگر چھوٹے مزاحمتی گروپوں کی کارروائیوں اور 2 نئے گروپوں کے سامنے آنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافے کے باوجود ان گروپوں کو باہمی اختلافات اور رابطہ کاری کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔










