دنیا بھر میں انٹرنیٹ تک رسائی میں اضافے کے ساتھ لاکھوں نئے صارفین آن لائن دنیا کا حصہ بن رہے ہیں، تاہم ڈیجیٹل سیکیورٹی سے ناواقفیت اور سائبر جرائم پیشہ افراد کے جدید طریقوں کے باعث ان کی ذاتی معلومات اور مالی اثاثوں کو خطرات لاحق ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد بڑھنے کے ساتھ آن لائن فراڈ، جعلی ویب سائٹس، فشنگ اور دیگر سائبر جرائم میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 2022 میں مغربی افریقی ملک بینن کے ایک سیکیورٹی اہلکار انیسیت ایٹیکپو کو فیس بک پر ایک ایسے شخص کی جانب سے لنک موصول ہوا جسے وہ اپنا دوست سمجھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرنیٹ پر نئے صارفین کو لوٹنے کے لیے فراڈیے تیار، خود کو محفوظ کیسے رکھیں؟
لنک کھولنے پر وہ ایک جعلی ویب سائٹ پر پہنچ گئے، جہاں ان سے ذاتی معلومات اور بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات طلب کی گئیں، اس فراڈ کے نتیجے میں انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ایٹیکپو کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے سے قبل صرف چند برس سے انٹرنیٹ استعمال کررہے تھے۔
ان کے مطابق بہت سے لوگ آن لائن رابطوں پر اعتماد کرتے ہیں اور پیغام کی حقیقت کی تصدیق کیے بغیر فوری ردعمل دے دیتے ہیں، جس سے وہ دھوکا دہی کا شکار ہوسکتے ہیں۔
❤️ Imagine this. You’ve been chatting to someone for months online and you’ve built a real relationship. You’re falling in love.
You’ve heard of scams like this, so you ask them for photos and videos. They are who they say they are. You’ve seen the proof.
But what if they… pic.twitter.com/fIs3DtNp8A
— INTERPOL (@INTERPOL_HQ) November 2, 2026
رپورٹ کے مطابق دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی، یعنی 2 ارب 60 کروڑ افراد، اب بھی انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم ہیں۔
موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک مزید تقریباً 2 ارب افراد آن لائن دنیا میں شامل ہوسکتے ہیں۔
ان میں سے بڑی تعداد کے لیے اسپیم پیغامات، رینسم ویئر، جعلی ویب سائٹس اور آن لائن فراڈ کا سامنا پہلی مرتبہ ہوگا۔
مزید پڑھیں: سائبر سیکیورٹی آگاہی ویک کی اختتامی تقریب، مقررین کا محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے قیام پر زور
سائبر سیکیورٹی کمپنی کراؤڈ اسٹرائیک کے ماہر زیکی توریدی کے مطابق سائبر جرائم کا نیٹ ورک زیادہ منظم اور پیشہ ورانہ شکل اختیار کررہا ہے۔
جرائم پیشہ افراد مصنوعی ذہانت، خودکار ٹیکنالوجی اور سوشل انجینئرنگ کے ذریعے صارفین کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
وہ مقامی زبانوں اور ثقافتی رجحانات کے مطابق جعلی پیغامات تیار کرکے بینکوں اور سرکاری اداروں کی نقالی بھی کرسکتے ہیں۔
Scammers are waiting to swindle new internet users. How do we protect them? https://t.co/jGgoFwuHJ0
— Randy Kemp (@randylewiskemp) November 6, 2026
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی ایسے فراڈ کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
بعض جرائم پیشہ گروہ ڈارک ویب پر فشنگ کے تیار شدہ طریقے اور چوری شدہ اکاؤنٹس کی معلومات حاصل کرتے ہیں، جس سے کم تکنیکی مہارت رکھنے والے افراد کے لیے بھی سائبر جرائم میں ملوث ہونا آسان ہوجاتا ہے۔
انٹرپول کے مطابق افریقہ میں سائبر جرائم سے ہونے والے مالی نقصانات 2024 کے بعد دو گنا سے زیادہ بڑھ کر 48 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: اے آئی کی مدد سے سائبر جرائم میں تیزی، روسی ہیکرز کی نئی کارروائی کا انکشاف
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں انٹرنیٹ کے بڑھتے استعمال کے ساتھ حفاظتی اقدامات کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔
مختلف ممالک اور عالمی ادارے سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے اقدامات کررہے ہیں، بھارت نے متاثرین کے لیے قومی ہیلپ لائن قائم کی ہے، جس کے ذریعے فراڈ کی فوری اطلاع دے کر بینکوں سے چوری شدہ رقم منجمد کرانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
انٹرپول بھی افریقی پولیس اداروں کو تحقیقات اور روک تھام میں معاونت فراہم کررہا ہے۔
مزید پڑھیں: سوویت جیلوں کے مجرموں کی خفیہ بولی آج عوام و سائبر کرمنلز میں کیسے رائج ہوگئی؟
ماہرین کے مطابق نئے صارفین کو ڈیجیٹل تحفظ کی تربیت دینا، اسکولوں میں آگاہی پروگرام متعارف کرانا، آن لائن صارفین کے قانونی حقوق مضبوط بنانا اور فراڈ کی فوری اطلاع دینے کے نظام بہتر کرنا ضروری ہے۔
گوگل بھی پاس ورڈ مینیجر، دو مرحلوں پر مشتمل تصدیق اور پاس کیز جیسی حفاظتی سہولتیں فراہم کررہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی میں اضافہ اسی وقت فائدہ مند ثابت ہوگا جب اس کے ساتھ ڈیجیٹل خواندگی اور سائبر سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات بھی فروغ پائیں۔











