امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد پاکستانی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست اور ڈیموکریٹس کی کانگریس میں کامیابی کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن کمزور ہونے سے پاکستان کی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس سیاسی تبدیلی سے پاکستان کی معیشت پر فوری طور پر کسی بڑے مثبت یا منفی اثر کا امکان محدود ہے تاہم عالمی توانائی کی منڈیوں، امریکی تجارتی پالیسی، پاکستان امریکہ تعلقات اور خطے کی کشیدہ صورت حال میں تبدیلی کے باعث پاکستانی معیشت بالواسطہ طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت کا امریکی معیشت اور مالیاتی منڈیوں کے ساتھ براہ راست تعلق اتنا گہرا نہیں کہ امریکی کانگریس میں سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت میں فوری بڑی تبدیلی آ جائے۔ تاہم امریکا پاکستان کی برآمدات، سفارتی تعلقات اور عالمی مالیاتی اداروں میں اثرورسوخ کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے، اس لیے واشنگٹن کی پالیسیوں میں کسی بھی تبدیلی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

معاشی تجزیہ کار شہباز رانا نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریپبلکن پارٹی کی شکست کا پاکستان کی معیشت پر نہ کوئی فوری منفی اثر پڑنے کا امکان ہے اور نہ ہی کوئی بڑا مثبت اثر متوقع ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی موجودہ معاشی اور تجارتی پالیسیاں پہلے سے موجود تھیں لیکن ان پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کو امریکا کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست فائدہ نہیں پہنچا جس سے پاکستانی معیشت کی سمت تبدیل ہوئی ہو۔

شہباز رانا کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی پاکستان سے متعلق پالیسی میں بھی فوری تبدیلی کا امکان نہیں اور غالب امکان یہی ہے کہ پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی بڑی حد تک پہلے جیسی رہے گی۔ تاہم ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ ایک کمزور صدر کی حیثیت سے باقی مدت گزار سکتے ہیں جس کے باعث ان کی بعض جارحانہ اور غیر متوقع پالیسیوں پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: ایران جنگ کے اثرات نے نقصان پہنچایا مڈ ٹرم نتائج پر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعتراف، ڈیموکریٹس کو مبارکباد

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی بین الاقوامی تجارت سے متعلق پالیسیوں کے باعث عالمی تجارت میں جو غیر یقینی صورت حال پیدا ہوئی تھی امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد اس میں کچھ کمی آنے کا امکان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امریکا کو برآمدات اور وہاں سے آنے والی ترسیلات زر کو مدنظر رکھا جائے تو بھی پاکستانی معیشت کا امریکی معیشت کے ساتھ تعلق اس نوعیت کا نہیں کہ صرف ریپبلکن پارٹی کی شکست سے پاکستان کو بڑا معاشی نقصان پہنچے تاہم اگر خطے میں جنگی صورت حال بہتر ہوتی ہے تو اس کا پاکستان کی معیشت پر یقیناً مثبت اثر مرتب ہو سکتا ہے۔

ایران جنگ اور توانائی کی قیمتیں پاکستان کے لیے سب سے اہم معاملہ

معاشی تجزیہ کار محمد بلال نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت پہلے ہی مہنگی توانائی اور عالمی منڈی میں ایندھن کی غیر یقینی صورت حال کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے اور توانائی کا بحران صرف پیٹرول اور ڈیزل تک محدود نہیں بلکہ ملک میں گیس کی لوڈ مینجمنٹ بھی شروع ہو چکی ہے اور پاکستان کو ایل این جی کی محدود اور مہنگی فراہمی کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں ایران کے ساتھ جنگ میں مزید شدت عالمی منڈی میں خام تیل اور ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے جس سے پاکستان کا پہلے سے مہنگا درآمدی توانائی بل مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

محمد بلال نے کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اندرون ملک سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے اور توانائی کی ترسیل معمول پر آنے سے عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورت میں پاکستان کو توانائی کی درآمدات کے اخراجات میں ریلیف ملنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر دباؤ کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

امریکی تجارتی پالیسی میں نرمی پاکستان کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے

محمد بلال کے مطابق امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی کامیابی سے صدر ٹرمپ کی ٹیرف اور تجارتی پالیسیوں پر سیاسی و ادارہ جاتی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ امریکی صدر کے پاس درآمدی محصولات سے متعلق فیصلے کرنے کے بعض اختیارات بدستور موجود ہیں لیکن اندرون ملک مہنگائی اور بڑھتی قیمتوں کے باعث ان پالیسیوں کو جاری رکھنا سیاسی طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا پاکستان تعلقات کی جھلکیاں، ناظم الامور نیٹلی بیکر کا دوطرفہ شراکت داری پر زور

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت امریکا کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے جس کا مقصد امریکی منڈی تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی بہتر بنانا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو وسعت دینا ہے۔

محمد بلال نے کہا کہ اگر امریکی تجارتی پالیسی میں غیر یقینی کم ہوتی ہے اور ٹیرف کے حوالے سے نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے تو پاکستان کو امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں بہتر مواقع مل سکتے ہیں۔

ان کے مطابق امریکی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کے لیے بہتر رسائی بالخصوص ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے تاہم اس کا انحصار مستقبل کے تجارتی معاہدے اور امریکی پالیسیوں کی عملی شکل پر ہوگا۔

پاکستان امریکا تعلقات اور ٹرمپ خاندان کے کاروباری معاملات پر کانگریس کی نظر

معاشی تجزیہ کار باقر سجاد سید کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے امریکا میں سرمایہ کاروں کے اعتماد اور عالمی منڈیوں کے رجحانات پر اثرات مرتب ہوئے ہیں، امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ابتدائی گراوٹ کے بعد تیزی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کی کامیابی سے صدر ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسی سازی پر کچھ حد تک قدغن لگ سکتی ہے۔

باقر سجاد سید کے مطابق پاکستان کے لیے اس سیاسی تبدیلی کا معاملہ نسبتاً پیچیدہ ہے کیونکہ ٹرمپ دور میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں جو بہتری آئی تھی اس کا بڑا حصہ صدر ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقے سے روابط پر مبنی تھا نہ کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کسی بنیادی اور ادارہ جاتی تبدیلی پر۔

ان کا کہنا ہے کہ جون 2025 میں وائٹ ہاؤس میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ٹرمپ کی غیر معمولی ملاقات نے بھی اس تعلق میں فوجی اور شخصی روابط کی اہمیت کو نمایاں کیا تھا۔ اس کے علاوہ اہم معدنیات، کرپٹو کرنسی، روزویلٹ ہوٹل، ڈرون سازی اور دیگر کاروباری شعبے بھی دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کا حصہ بنے۔

باقر سجاد سید کے مطابق ڈیموکریٹس کی اکثریت سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ختم ہونے کا امکان نہیں تاہم ٹرمپ خاندان کے کاروباری مفادات، پاکستان سے منسلک بعض کاروباری منصوبوں اور ان معاملات میں شفافیت سے متعلق سوالات پر امریکی کانگریس میں زیادہ جانچ پڑتال ہو سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے 10 ارب ڈالر کے مالیاتی بیک اسٹاپ کا معاملہ بھی اہم

باقر سجاد سید کے مطابق پاکستان کی جانب سے امریکی ٹریژری سے 10 ارب ڈالر کے مالیاتی بیک اسٹاپ کی خواہش کو بھی خاص پذیرائی نہیں ملی تھی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس حوالے سے خود انحصاری اور آئی ایم ایف اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا پاکستان پر زیادہ اعتماد، بھارت کو سائیڈ لائن کر رہا ہے: بھارتی میڈیا

ان کے مطابق ڈیموکریٹس کے زیر اثر کانگریس میں پاکستان کے لیے اس نوعیت کے بڑے مالیاتی انتظام کی حمایت حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان بعض ایسے شعبے موجود ہیں جہاں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان اتفاق رائے برقرار رہ سکتا ہے جن میں انسداد دہشت گردی، علاقائی استحکام، اہم معدنیات اور ایران کے ساتھ تنازع میں پاکستان کا سفارتی کردار شامل ہیں۔

باقر سجاد سید کے مطابق پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ٹرمپ دور میں قائم ہونے والے تعلقات کو صرف شخصیات تک محدود رکھنے کے بجائے امریکی اداروں، کانگریس اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ وسیع تر بنیادوں پر استوار کرے تاکہ مستقبل میں معاشی تعاون کا تسلسل برقرار رہ سکے۔

آئی ایم ایف، ڈالر اور روپے کی قدر پر ممکنہ اثرات

معاشی ماہرین کے مطابق امریکی سیاسی تبدیلی کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں ڈالر کی قدر، امریکی بانڈز کی شرح منافع اور سرمایہ کاری کے رجحانات میں تبدیلی پاکستان کے لیے بھی اہم ہو سکتی ہے۔ اگر عالمی سطح پر ڈالر کمزور ہوتا ہے تو پاکستانی روپے پر دباؤ میں کمی آ سکتی ہے تاہم روپے کی قدر کا اصل انحصار پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر، درآمدات، برآمدات اور بیرونی ادائیگیوں کی صورت حال پر رہے گا۔

مزید پڑھیں: ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے میں 3 پیسے کا اضافہ

اسی طرح امریکا میں سیاسی تبدیلی سے پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام یا بیرونی قرضوں کی شرائط میں فوری تبدیلی متوقع نہیں کیونکہ یہ معاملات بنیادی طور پر طے شدہ پروگراموں اور مالیاتی اہداف کے تحت آگے بڑھتے ہیں۔ البتہ عالمی مالیاتی اداروں میں امریکی اثرورسوخ اور پاکستان کے لیے اضافی مالی معاونت کے امکانات کے حوالے سے امریکی پالیسی اہمیت رکھتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی انتخابات کے بعد ٹیکنالوجی اسٹاکس کریش، نیسڈیک سے ڈھائی کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری غائب

نومنتخب امریکی سینیٹر ڈاکٹر عبدالسید کی برطانوی صحافی سے مبینہ بدتمیزی، ویڈیو وائرل

ایشیائی نژاد نیتھیا رامن نے تاریخ رقم کردی، لاس اینجلس کی پہلی ایشیائی امریکی میئر منتخب

نیب نے سابقہ حکومتوں کے دور میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق پرانی انکوائریاں اور تحقیقات دوبارہ کھولنے کا عمل تیز کردیا

خیبرپختونخوا: غیر قانونی مقیم افغان باشندوں اور ان کے آجر و مالک مکان کے خلاف کریک ڈاؤن کی تیاریاں مکمل

ویڈیو

2 اضلاع کے لاکھوں افراد کا رابطہ شدید متاثر، ہنجلی دوہٹہ کا ٹوٹا پل تاحال نامکمل، مایوس عوام کی امیدیں نئے صوبوں سے بندھ گئیں

اسکول بن گیا، سہولتیں نہ ملیں، پنوں عاقل کے بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

پاکستان کی مہمان نوازی سے متاثر امریکی کاروباری شخصیت ڈیو ڈی اینجلو پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کے معترف

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟