صرف 4 گھنٹے کی نیند، پھر بھی بھرپور توانائی، آخر یہ لوگ کون ہیں؟

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جنہیں روزانہ صرف 4 سے ساڑھے 6 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ کم نیند کے باوجود معمول کے مطابق متحرک اور توانا رہتے ہیں۔ سائنس دانوں نے تحقیق کے ذریعے ایسے افراد کی کم نیند کا تعلق مخصوص جینیاتی تبدیلیوں سے جوڑا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بعض افراد میں ایک نایاب موروثی کیفیت پائی جاتی ہے جسے فیملیئل نیچرل شارٹ سلیپ (FNSS) کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت کے حامل افراد فطری طور پر کم سوتے ہیں اور بظاہر نیند کی کمی کے منفی اثرات سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ عام طور پر بالغ افراد کو روزانہ 7 سے 9 گھنٹے نیند درکار ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں:اچھی نیند کا ایسا راز جو شکاری قبائل آج بھی جانتے ہیں لیکن جدید انسان بھول گیا، جانیے اہم گُر

رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف کولوراڈو کی امیونولوجی پروفیسر ایمی پگ برنارڈ بھی ان افراد میں شامل ہیں۔ وہ عموماً رات 10 بجے سوتی اور صبح ساڑھے 4 بجے بیدار ہوجاتی ہیں۔ جینیاتی تحقیق کے ذریعے 2019 میں انہیں معلوم ہوا کہ ان میں کم نیند سے متعلق ایک نایاب جینیاتی تبدیلی موجود ہے۔ ان کے والد اور بھائی بھی قدرتی طور پر کم سوتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو کے محققین نے ایسی جینیاتی تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے جو بعض افراد کی نیند کا دورانیہ کم کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ تحقیق میں چوہوں پر کیے گئے تجربات سے یہ اشارے بھی ملے کہ ان جینیاتی تبدیلیوں کے حامل جانوروں میں یادداشت کی خرابی اور الزائمر جیسی بیماری کے اثرات کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔ تاہم انسانوں میں اس حوالے سے مزید تحقیق درکار ہے۔

رپورٹ میں 2014 کی ایک تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں جڑواں بھائیوں کا مطالعہ کیا گیا۔ ان میں سے ایک بھائی میں کم نیند سے متعلق جینیاتی تبدیلی موجود تھی۔ مسلسل 38 گھنٹے بیدار رکھنے کے تجربے میں جینیاتی تبدیلی کے حامل بھائی کی کارکردگی میں دوسرے بھائی کے مقابلے میں قریباً 40 فیصد کم خلل دیکھا گیا، جبکہ کم سونے کے باوجود اس کی گہری نیند کا دورانیہ بھی قریباً برابر تھا۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کم نیند کے باوجود خود کو تروتازہ محسوس کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ دماغی کارکردگی متاثر نہیں ہورہی۔ ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ صحت مند افراد کو مسلسل 2 ہفتے تک صرف 4 یا 6 گھنٹے سونے کا موقع دیا گیا تو ان کی ذہنی صلاحیت کے امتحانات میں کارکردگی مسلسل گرتی رہی، لیکن وہ خود اپنی غنودگی کو معمولی سمجھتے رہے۔

مزید پڑھیں:کم نیند اور رات کی شفٹوں میں کام گھٹنوں اور کولہوں کے امراض کا باعث بن سکتا ہے، نئی تحقیق میں انکشاف

ماہرین کے مطابق نیند کے دورانیے میں جینیاتی عوامل کا کردار اہم ہے، تاہم ہر کم سونے والا شخص قدرتی طور پر کم نیند کی ضرورت رکھنے والوں میں شامل نہیں ہوتا۔ سائنس دانوں کو امید ہے کہ ان جینیاتی تبدیلیوں کی مزید تحقیق سے مستقبل میں نیند کی کمی سے پیدا ہونے والے طبی مسائل کے علاج میں مدد مل سکے گی۔

اہم نکتہ: یہ تحقیق اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ عام افراد اپنی نیند کا دورانیہ چار گھنٹے تک محدود کردیں۔ قدرتی طور پر کم سونے والے افراد ایک نایاب جینیاتی گروہ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp