اچھی نیند کا ایسا راز جو شکاری قبائل آج بھی جانتے ہیں لیکن جدید انسان بھول گیا، جانیے اہم گُر

جمعرات 24 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شکاری اور خوراک جمع کرنے والے قدیم معاشروں کے طرز زندگی پر تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بہتر نیند کے لیے ہمیں صرف بستر اور اندھیرے کی نہیں بلکہ دن کی روشنی، رات کے درجہ حرارت، سماجی میل جول اور نیند کے بارے میں اپنی سوچ پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: نیند کو ’پرفیکٹ‘ بنانے کی کوشش کہیں اسے مزید خراب نہ کردے؟

انسان کے قدیم آباؤ اجداد کس طرح سوتے تھے اس بارے میں ہم بہت کچھ نہیں جانتے۔ ایک عرصے تک یہ خیال عام رہا کہ وہ سورج ڈوبنے سے لے کر طلوعِ آفتاب تک سوتے تھے تاہم حالیہ تحقیق نے اس مفروضے کو بڑی حد تک غلط ثابت کردیا ہے۔

آج بھی شکاری اور خوراک جمع کرنے والے معاشروں کا مطالعہ اس بات کو سمجھنے کے لیے اہم ترین شواہد میں شمار ہوتا ہے کہ انسانی نسل نے اپنی ارتقائی تاریخ کے 95 فیصد سے زیادہ عرصے میں کس طرح نیند حاصل کی ہوگی۔

تحقیق میں ایک بات مستقل طور پر سامنے آئی ہے کہ ان معاشروں کے لوگ عمومی طور پر نیند کے مسائل کی شکایت بہت کم کرتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کے ماہرِ نیند جیروم سیگل نے تنزانیہ کے ہدزا بولیویا کے تسیمانے اور نمیبیا کے سان قبائل کے نیند کے معمولات کا مطالعہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ ان شکاری قبائل سے ان کی مادری زبان میں پوچھیں کہ کیا آپ کو کبھی سونے میں دشواری ہوتی ہے، تو انہیں اس سوال کا تصور ہی سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔

مزید پڑھیے: یونیورسٹی کے نئے طالب علم نیند پوری کیسے کریں؟ ماہرین کے اہم مشورے

یہ بات اس لیے بھی دلچسپ ہے کہ صنعتی معاشروں کے مقابلے میں غیر صنعتی معاشروں کے افراد عموماً کم وقت سوتے ہیں اور رات کے دوران زیادہ مرتبہ بیدار بھی ہوتے ہیں۔

نیند کے بارے میں تحقیق اور رپورٹنگ کے دوران سامنے آنے والی معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے قدیم آباؤ اجداد کے طرز زندگی کے کچھ طریقے آج بھی ہماری نیند بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

دن کے وقت روشنی ضرور لیں

صنعتی معاشروں میں رہنے والوں کے لیے نیند کی مقدار اور معیار بعض پہلوؤں سے بہتر ہونے کے باوجود ایک بنیادی مسئلہ موجود ہے اور وہ ہماری جسمانی گھڑی کا بگڑتا ہوا نظام ہے۔

جسم کے اندر موجود یہ حیاتیاتی گھڑی ہمیں بتاتی ہے کہ کب بیدار ہونا ہے اور کب نیند کی طرف جانا ہے۔ اسے درست رکھنے کے لیے مختلف قدرتی اشاروں کی ضرورت ہوتی ہے جنہیں سائنسی زبان میں ’وقت کا تعین کرنے والے عوامل‘ کہا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف ٹورنٹو کی نیند اور انسانی ارتقا کی تجربہ گاہ کے سربراہ ڈیوڈ سیمسن کہتے ہیں کہ ہم ایسے ماحول میں رہ رہے ہیں جو اس قدیم حیاتیاتی نظام کو بے ترتیب کررہا ہے۔

ان کے مطابق ان عوامل میں سب سے اہم روشنی ہے اسی لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ بیدار ہونے کے بعد جتنی جلد ممکن ہو قدرتی روشنی حاصل کی جائے۔

صنعتی معاشروں میں رہنے والوں کے لیے دن کی روشنی صرف جسمانی گھڑی کو درست رکھنے میں ہی مددگار نہیں بلکہ رات کے وقت مصنوعی روشنی کے اثرات کو بھی کم کرسکتی ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سونے سے پہلے کئی گھنٹے تک بہت تیز روشنی والی اسکرین استعمال کرنے سے نیند آنے میں تقریباً 10 منٹ کی تاخیر ہوسکتی ہے تاہم اگر اسی شخص نے دن کے وقت تیز روشنی حاصل کی ہو تو یہ اثر ختم ہوگیا۔

یقیناً سرد اور کم روشنی والے علاقوں میں یا ایسے افراد کے لیے جو زیادہ تر وقت گھر یا دفتر میں گزارتے ہیں دن کی روشنی حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ تاہم مختصر وقفے بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا آپ زیادہ خواب دیکھتے ہیں، تو جانیے ایسی گہری نیند کتنی بیماریوں سے بچاسکتی ہے؟

مثلاً اگلی مرتبہ اگر ٹرین لینے کے بجائے چند منٹ پیدل چلنے کا موقع ہو، دوپہر کا کھانا گھر یا دفتر کے اندر کھانے کے بجائے باہر کھایا جاسکے یا کھڑکی کے قریب بیٹھ کر کام کرنے کا موقع ملے تو اسے اختیار کرنا مفید ہوسکتا ہے۔

نیند کے لیے درجہ حرارت کو بھی اہمیت دیں

نیند پر اثر انداز ہونے والا ایک اور قدرتی عامل درجہ حرارت ہے۔

ماہرین کے مطابق دنیا کے گرم علاقوں میں بھی رات کے دوران درجہ حرارت عموماً کم ہوتا ہے اور دن میں دوبارہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرِ نیند جیروم سیگل کے خیال میں درجہ حرارت نیند کے حوالے سے ایک کم توجہ پانے والا لیکن اہم عنصر ہے۔

ان کے مطابق غیر صنعتی معاشروں، جیسے ہدزا قبیلے، کے لوگ عموماً سورج غروب ہونے کے چند گھنٹے بعد سوتے اور طلوعِ آفتاب سے پہلے جاگتے ہیں تاہم ان کے سونے اور جاگنے کے اوقات کا تعلق روشنی کے بجائے درجہ حرارت میں ہونے والی تبدیلیوں سے زیادہ نظر آتا ہے۔

اس کے برعکس جدید معاشروں میں بہت سے لوگ ایسے گھروں میں رہتے ہیں جہاں دن اور رات کے دوران درجہ حرارت تقریباً ایک جیسا رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس قدرتی تبدیلی کی کچھ حد تک نقل کرنے کے لیے سونے سے پہلے کمرے کا درجہ حرارت چند درجے کم کیا جاسکتا ہے، رات کے دوران درجہ حرارت بتدریج کم کرنے والا خودکار نظام استعمال کیا جاسکتا ہے یا کھڑکی کھولی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: نیند کی کمی پوری کرنے کا درست طریقہ کیا ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ روشنی اور درجہ حرارت دونوں پورے سال تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور شکاری و خوراک جمع کرنے والے معاشروں میں لوگوں کی نیند بھی ان تبدیلیوں کے ساتھ بدلتی ہے۔

یہ تبدیلی صرف سونے اور جاگنے کے اوقات تک محدود نہیں بلکہ نیند کے دورانیے میں بھی ہوتی ہے۔ دن زیادہ طویل اور موسم گرم ہونے پر لوگ کم سوتے ہیں جبکہ دن چھوٹے اور موسم سرد ہونے پر نیند کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔

اگرچہ ان معاشروں کے بہت سے افراد روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر جاگتے ہیں جو ہماری جسمانی گھڑی کو دوبارہ معمول پر لانے میں مددگار ہوسکتا ہے تاہم ہمیں یہ فکر بھی نہیں کرنی چاہیے کہ موسموں کے ساتھ ہماری نیند میں کچھ تبدیلی کیوں آرہی ہے۔

سونے سے پہلے صرف موبائل اور کام سے دور ہونا کافی نہیں

شکاری اور خوراک جمع کرنے والے معاشروں میں جب شام ڈھلتی ہے تو لوگ فوراً بستر پر نہیں چلے جاتے۔

محققین کے مطابق وہ پرسکون اور غیر کام سے متعلق سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں مثلاً الاؤ کے گرد بیٹھنا، کہانیاں سنانا یا ایک دوسرے سے ملنے جانا۔

نیواڈا یونیورسٹی لاس ویگاس کی ماہرِ بشریات ایلیسا کرٹنڈن، جو گزشتہ 2 دہائیوں سے ہر سال تنزانیہ کے ہدزا قبیلے کے ساتھ وقت گزارتی رہی ہیں، کہتی ہیں کہ سورج غروب ہوتے ہی سب کچھ پرسکون ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

ان کے مطابق دن کے وقت زیادہ تر سرگرمیاں اور گفتگو عملی معاملات کے گرد گھومتی ہیں، جن میں روزمرہ کے انتظامات، بچوں کی دیکھ بھال اور خوراک وغیرہ شامل ہیں، لیکن رات کو یہ سب ختم ہوجاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ شام کا وقت دن کے کام پر مرکوز ماحول سے بنیادی طور پر مختلف ہونا انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ ہمارے جسم اور دماغ کو ایک اور اشارہ دیتا ہے کہ اب سونے کا وقت قریب ہے۔

مزید پڑھیں: کیا الارم کے بغیر جاگنا ممکن ہے؟ نیند کی اندرونی گھڑی درست کرنے کا طریقہ

اسی لیے ماہرین کے مطابق سونے سے عین پہلے دفتری ای میلز دیکھنے اور کام سے متعلق معاملات نمٹانے یا بل ادا کرنے جیسی سرگرمیوں سے گریز کرنا بہتر ہے۔ کام کی جگہوں پر ذمہ دار افراد کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ملازمین سے رات کے وقت کام کی توقع نہ رکھیں۔

سونے سے پہلے دوسروں سے جڑنا بھی فائدہ مند ہوسکتا ہے

شکاری اور خوراک جمع کرنے والے معاشروں میں شام کے وقت کی سرگرمیوں کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اجتماعی ہوتی ہیں۔

ایلیسا کرٹنڈن کے مطابق یہ سرگرمیاں لوگوں میں باہمی تعلق، یکجہتی اور تعاون کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ انہوں نے اس تصور کو ’رات کا باہمی تعاون پر مبنی ماحول‘ کا نام دیا ہے۔

ان معاشروں میں بہت سے لوگ ایک ہی کمرے یا ایک ہی جگہ پر دوسرے افراد کے ساتھ سوتے ہیں۔ ان میں صرف میاں بیوی ہی نہیں بلکہ بچے اور بعض اوقات دوست یا پڑوسی بھی شامل ہوتے ہیں۔ یوں لوگوں کے درمیان سماجی تعلق نیند کے دوران بھی برقرار رہتا ہے۔

صنعتی معاشروں میں بھی کچھ شواہد ایسے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ کسی دوسرے شخص کے ساتھ سو کر تنہا سونے کے مقابلے میں اپنی نیند کو زیادہ بہتر محسوس کرسکتے ہیں۔

کئی دہائیوں پر محیط تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تنہائی محسوس کرنے والے افراد کی نیند عموماً خراب ہوتی ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ شام کے وقت دوسروں کے ساتھ وقت گزارنا صرف سماجی تعلق مضبوط کرنے کے لیے ہی مفید نہ ہو بلکہ نیند کے لیے بھی فائدہ مند ہو۔

یہ بھی پڑھیں: اپنی عمر سے زیادہ بوڑھا محسوس کرتے ہیں؟ وجہ ناقص نیند بھی ہو سکتی ہے، تحقیق

جو لوگ چھوٹے خاندانوں کے ساتھ یا بالکل اکیلے رہتے ہیں ان کے لیے اس طرح کا سماجی ماحول پیدا کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ تاہم شام کو دوسروں کے ساتھ وقت گزارنا مددگار ہوسکتا ہے خواہ وہ اجتماعی ورزش کی کلاس ہو، دوستوں کو کھانے پر بلانا ہو یا کسی دوست یا عزیز سے فون پر بات کرنا۔

ہر رات ’مثالی نیند‘ لینے کی ضد چھوڑ دیں

محققین سے گفتگو میں بار بار ایک بات سامنے آئی کہ شکاری اور خوراک جمع کرنے والے یا دیگر غیر صنعتی معاشروں کے افراد اوسطاً ہم سے کم سوتے ہیں اور رات میں زیادہ مرتبہ جاگتے ہیں۔

ماہرِ بشریات ایلیسا کرٹنڈن کے مطابق صنعتی معاشروں میں رہنے والے لوگ مسلسل 8 گھنٹے بلاتعطل نیند حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ جسمانی اعتبار سے یہ توقع شاید ایک غیر حقیقی تصور ہے۔

ان کے مطابق نیند کے بارے میں حد سے زیادہ فکر بعض اوقات خود نیند کو مزید خراب کرسکتی ہے۔

آج کے معاشرے میں ہم اپنی صحت اور تندرستی کے تقریباً ہر پہلو کو بہتر بنانے اور ناپنے کے جنون میں مبتلا ہیں اور نیند بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ ایسے میں شاید بہت سے لوگوں کے لیے یہ سمجھنا مفید ہو کہ ہر رات کی نیند ایک جیسی ہونا ضروری نہیں۔

شکاری اور خوراک جمع کرنے والے معاشروں میں نیند پر تحقیق کرنے والے ماہرِ بشریات گاندھی یتیچ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ ہماری نیند ہر رات بالکل ایک جیسی ہوگی۔

ان کے مطابق جس طرح ہم ہر روز بالکل ایک جیسا کھانا نہیں کھاتے اسی طرح یہ توقع کرنا بھی ضروری نہیں کہ ہم 2 رات مسلسل بالکل ایک ہی انداز میں سوئیں۔

مزید پڑھیے: صحت اور سکون کے لگژری پروگرامز کا نیا رجحان: بہتر نیند اور کم تناؤ کے دعوے

یقیناً مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم سے ہر روز یکساں اور بہترین کارکردگی کی توقع کی جاتی ہے اس لیے ہم ہر رات یکساں اور بہترین نیند حاصل کرنے کی توقع بھی کرنے لگتے ہیں۔ لیکن شاید یہی وہ سوچ ہے جسے تبدیل کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

کچھ دن ایسے ہوسکتے ہیں جب ہم خود کو زیادہ توانا، توجہ مرکوز اور چست محسوس کریں جبکہ بعض دن ہماری توانائی یا توجہ قدرے کم ہوسکتی ہے۔

تاہم نیند میں مسلسل خرابی، دائمی بے خوابی یا شدید تھکن کو محض معمول کی تبدیلی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ایسی علامات مستقل رہیں یا صحت کے حوالے سے تشویش ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: الارم گھڑی سے پہلے لوگ کیسے جاگتے تھے: کھڑکیاں کھٹکھٹانے والے ’نوکر اپرز‘ سے سحری میں جگانے والوں تک

بہر حال نیند میں کچھ حد تک اتار چڑھاؤ انسانی فطرت کا حصہ ہوسکتا ہے۔ ہم مشینیں نہیں ہیں اس لیے ہر رات بالکل ایک جیسی نیند حاصل کرنا بھی ضروری نہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس حقیقت کو قبول کرنا ہی شاید بہتر نیند کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp