بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (بیوٹمز) کے 63 اساتذہ کو بیرون ملک پی ایچ ڈی کے لیے اسکالرشپس دی گئیں، تاہم مقررہ مدت میں صرف 12 اساتذہ واپس آ کر ڈیوٹی پر رپورٹ ہوئے، جبکہ 51 اساتذہ کی واپسی نہ ہونے اور اسکالرشپ معاہدوں کی خلاف ورزی کے باعث 11 کروڑ 85 لاکھ 45 ہزار روپے کی ریکوری کا معاملہ سامنے آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: یورپ میں اے آئی کی تعلیم: وزیراعظم نے ملک بھر کے طلبا و طالبات کو خوشخبری سنا دی
بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں بیوٹمز سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیتے ہوئے انکشاف ہوا کہ یونیورسٹی کی جانب سے مختلف غیر ملکی جامعات میں پی ایچ ڈی کے لیے بھیجے گئے 63 لیکچررز اور اسسٹنٹ پروفیسرز میں سے صرف 12 مقررہ مدت میں واپس آئے، جبکہ باقی اسکالرز سے واجب الادا رقم اور جرمانوں کی وصولی کا معاملہ تاحال حل طلب ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق اسکالرشپ معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے والے اساتذہ سے بیرون ملک تعلیم پر خرچ ہونے والی رقم کے علاوہ 25 فیصد تک جرمانہ بھی وصول کیا جا سکتا ہے، جبکہ متعلقہ پالیسی کے تحت خلاف ورزی کی صورت میں اسکالرشپ منسوخ کرنے کی بھی گنجائش موجود ہے۔
اجلاس میں وائس چانسلر بیوٹمز پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ اور یونیورسٹی کے دیگر حکام نے شرکت کی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کمیٹی کو بتایا کہ غیر حاضر اسکالرز سے بانڈ کی رقم ایک سال کے اندر اقساط میں وصول کرنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ اس سلسلے میں ایف آئی اے، متعلقہ ممالک کے پاکستانی سفارت خانوں اور غیر ملکی جامعات کو بھی خطوط ارسال کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب یونیورسٹی کے 12 اساتذہ کروڑوں روپوں کی اسکالرشپ لے کر غائب
انتظامیہ کے مطابق مستقبل میں اسکالرشپس اور اسٹڈی لیو کے معاملات میں مالی تحفظ یقینی بنانے کے لیے ڈالر کی قدر کے مطابق بانڈ، سرکاری ملازمین کو بطور ضامن نامزد کرنے اور جائیداد کی ضمانت جیسی شرائط بھی سخت کی جا رہی ہیں۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے لیے سرکاری وسائل سے بیرون ملک بھیجے جانے والے اساتذہ کی واپسی اور معاہدوں پر عمل درآمد کا مؤثر نظام نہ ہونا نہ صرف سرکاری خزانے بلکہ صوبے کے تعلیمی شعبے کے لیے بھی ایک اہم سوال ہے۔










