عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ٹیکس آمدن میں اضافے، برآمدات کے فروغ اور معاشی اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان معاشی بحران سے استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے اور اقتصادی ترقی کی شرح 2 فیصد سے بڑھ کر 3.5 فیصد تک پہنچ رہی ہے۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بجلی سبسڈی کی اجازت دے دی
ایس ڈی پی آئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے کنٹری ڈائریکٹر ماہر بنیجی نے کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی اعتبار سے ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ ملک نے معاشی بحران سے استحکام تک کا سفر طے کیا ہے، تاہم اس پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران پاکستان میں معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مسلسل سنجیدہ کوششیں کی گئی ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ معاشی ترقی کی شرح میں 2 فیصد سے 3.5 فیصد تک اضافہ ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔
ماہر بنیجی کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے باوجود پاکستان اپنی معاشی ترقی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئی ایم ایف ملک میں معاشی استحکام کے فروغ کے لیے طویل مدت تک پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
آئی ایم ایف کے کنٹری ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے، اس لیے حکومت کو برآمدی شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ ان کے مطابق نیشنل ٹیرف پالیسی کے نتیجے میں بھی ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
انہوں نے ٹیکس وصولیوں میں مسلسل اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ٹیکس آمدن بڑھانے کا عمل جاری رکھنا چاہیے تاکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بہتر ہوسکے۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف حکام کی پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف مشن کی کراچی آمد، مالیاتی توازن اور مانیٹری پالیسی کا جائزہ
ماہر بنیجی نے مزید کہا کہ ملک میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور عوامی فلاح و ترقی کے منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام کے بعد ترقی کی رفتار میں تسلسل برقرار رکھنا پاکستان کے لیے اہم چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے معاشی اصلاحات پر مستقل بنیادوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔











